turky-urdu-logo

استنبول میں اسکول میں چاقو زنی کے واقعے کی تحقیقات کی تصدیق، وزیرِ انصاف کا باضابطہ اعلان

استنبول میں ایک ہائی سکول میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے میں 44 سالہ حیاتیات کی معلمہ فاطمہ نور چیلک چاقو کے حملے میں جاں بحق ہو گئیں۔ یہ واقعہ پیر کے روز ضلع چیکمے کوئے میں واقع بورصہ استنبول ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل اناطولیہ ہائی اسکول میں پیش آیا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق حملہ آور 17 سالہ طالب علم تھا، جس کی شناخت ابتدائی حروف ایف۔ایس۔بی کے طور پر کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملزم کو دو روز قبل اس کے والد کی درخواست پر باقر کوئے مظہر عثمان ذہنی صحت اور اعصابی امراض اسپتال سے ڈسچارج کیا گیا تھا۔

وزیرِ انصاف آکِن گورلیک نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک حملے کے بعد جامع عدالتی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اناطولیہ چیف پبلک پراسیکیوٹر آفس اس مقدمے کی نگرانی کر رہا ہے اور تحقیقات نہایت باریک بینی اور تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے جاری ہیں۔

منگل کو سوشل میڈیا پر جاری بیان میں وزیرِ انصاف نے کہا کہ انہیں اس واقعے کی خبر گہرے رنج کے ساتھ ملی، جس میں فاطمہ نور چیلک اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حملے کے فوراً بعد قانونی کارروائی شروع کر دی گئی تھی اور تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے۔

آکِن گورلیک نے اس بات پر زور دیا کہ حملے کے ذمہ دار افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست شفاف عدالتی عمل اور مکمل شواہد کی بنیاد پر انصاف کی فراہمی کے لیے پُرعزم ہے۔

وزیرِ انصاف نے اس واقعے کو نہ صرف مقتولہ کے خاندان بلکہ تعلیمی برادری اور پوری قوم کے لیے ایک بڑا سانحہ قرار دیا۔ انہوں نے فاطمہ نور چیلک کے اہلِ خانہ، طلبہ، ساتھی اساتذہ اور وزارتِ قومی تعلیم کے عملے سے تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ حملے میں زخمی ہونے والے طالب علم اور استاد کی جلد صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

Read Previous

ایران میں عدم استحکام ترکیہ اور پاکستان سمیت پورے خطے کو متاثر کرے گا، مہمت اوزترک

Read Next

استنبول جاز فیسٹیول کا 33واں ایڈیشن جون میں منعقد ہوگا، عالمی فنکار شرکت کریں گے

Leave a Reply