turky-urdu-logo

"ایران کی قیادت کا ستونِ استوار”

مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کے ہنگامہ خیز افق پر اگر کوئی نام چار دہائیوں سے مستقل ثبت ہے تو وہ سید علی حسینی خامنہ ای کا ہے۔ ایک ایسا مردِ سیاست و مذہب، جس نے انقلاب کی گلیوں سے ایوانوں تک کا سفر کیا، اور تاریخ کے دھارے کو اپنی فکر سے موڑنے کی کوشش کی۔
19 اپریل 1939 مشہد کی سرزمین پر مذہبی گھرانے میں آنکھ کھولنے والا ، آگے چل کر ایران کی سب سے طاقتور شخصیت بنے گا یہ شاید اُس وقت کسی کے گمان میں نا تھا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد وہ علمِ دین کی تحصیل کے لیے قم پہنچے، جہاں ان کی فکر کو جِلا ملی اور ان کی انقلابی سوچ نے جنم لیا۔ یہاں وہ آیت اللہ روح اللہ خمینی (ایران کےشیعہ مرجع تقلید اور فقہی رہنما) کے نظریات سے متاثر ہوئے، جو اس شاہِ ایران کے خلاف بغاوت کی صدا بلند کر رہے تھے

سنہ 1979 کا انقلاب آیا تو ایران کی تقدیر نے کروٹ لی۔ خامنہ ای اس انقلابی قافلے کا حصہ تھے مگر گرفتاری، قید و بند اور صعوبتیں ان کے راستے کی رکاوٹ نہ بن سکیں۔ 1981 میں وہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ایک ایسا زمانہ جب ایران عراق کے ساتھ طویل اور خونریز جنگ میں الجھا ہوا تھا۔
1989

میں امام خمینی کا انتقال کے بعد مجلسِ خبرگان نے علی خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کر لیا۔ ایران میں سپریم لیڈر منتخب ہونا ایک عہدے سے بڑھ کر طاقت کا مرکز ثابت ہوتا ہے۔ فوج، عدلیہ، خارجہ پالیسی اور ریاستی ادارے سب اسی مقام سے رہنمائی پاتے ہیں۔
ان کی قیادت میں ایران نے اپنی خودمختاری کو شعار بنایا۔ جوہری پروگرام یا علاقائی سیاست ہر معاملے میں ایک مضبوط اور غیر متزلزل مؤقف اختیار کیا گیا۔ امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے، خصوصاً ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں جب پابندیاں اور سفارتی تناؤ اپنے عروج پر پہنچے۔
انہوں نے فلسطین کی کھل کر حمایت کی اور خطے میں ایران کے اثر و رسوخ کو وسعت دی۔
ایران نے ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھایا، جس پر عالمی پابندیاں بھی لگیں، لیکن خامنہ ای اپنے مؤقف پر ڈٹے رہے۔


گزشتہ چند ماہ سے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔
اور پھر 2 فروری 2026 کو ہونے والے اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر مشترکہ حملے میں علی خامنہ ای جانبر نہ ہو۔ایران میں سوگ کی فضا ہے، جبکہ عالمی سطح پر ردعمل کا سلسلہ جاری ہے۔


علی خامنہ ای کی شخصیت تضادات کا مجموعہ ہے۔کچھ کے نزدیک وہ مزاحمت کی علامت ہیں، تو کچھ انہیں سخت گیر حکمران سمجھتے ہیں۔ مگر اس سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے ایران کی سیاست پر گہری اور دیرپا چھاپ چھوڑی ہے۔


چار دہائیوں سے زائد اقتدار کے اس سفر نے انہیں تاریخ کے ان چند رہنماؤں میں شامل کر دیا ہے، جن کی موجودگی ہی خطے کی سیاست کا توازن بدل سکتی ہے۔اور جب تک ان کی فکر اور قیادت باقی ہے، ایران کی سمت کا تعین بھی انہی کے افکار کے زیرِ اثر ہوتا رہے گا

Read Previous

پاک افغان سرحد پر پاکستان کی بڑی جوابی کارروائی، 31 افغان طالبان چوکیاں قبضے میں لینے کا دعویٰ

Read Next

اسرائیل کا حزب اللہ کے سربراہ کو ’’نشانہ برائے خاتمہ‘‘ قرار دینے کا اعلان

Leave a Reply