turky-urdu-logo

قومی ہاکی ٹیم کی آسٹریلیا سے واپسی، کپتان عماد بٹ کے سنگین الزامات

پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم آسٹریلیا میں پرو ہاکی لیگ میں مسلسل شکستوں کے بعد بدھ کی صبح لاہور واپس پہنچ گئی۔ واپسی پر لاہور ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کپتان عماد بٹ نے ٹیم مینجمنٹ اور ہاکی حکام پر سنگین الزامات عائد کیے۔

عماد بٹ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں کھلاڑیوں کو رہائش اور کھانے پینے کے مسائل کا سامنا رہا۔ ان کے مطابق کھلاڑیوں سے کچن، برتن، کپڑے اور باتھ روم صاف کروائے گئے، کھانا خود پکانا پڑا اور بعض اوقات سڑکوں پر بھی رہنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں کھلاڑی بہتر کارکردگی کیسے دکھا سکتے ہیں۔

کپتان نے دعویٰ کیا کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز درست ہیں، جن میں کھلاڑیوں کو کھانا پکاتے اور سامان کے ساتھ سڑک کنارے بیٹھے دیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ان تصاویر اور ویڈیوز کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

عماد بٹ کے مطابق انہوں نے اس معاملے پر پاکستان سپورٹس بورڈ سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ٹیم کی روانگی سے قبل مطلوبہ فنڈز پاکستان ہاکی فیڈریشن کو فراہم کر دیے گئے تھے۔ دوسری جانب ٹیم مینجمنٹ کا مؤقف تھا کہ مکمل فنڈنگ نہیں ملی۔ کپتان نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کون درست کہہ رہا ہے، تاہم ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے سچ نہیں بولا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے کھلاڑیوں سے علیحدہ ملاقاتیں کر کے پوچھا کہ وہ کپتان کے ساتھ ہیں یا ہاکی فیڈریشن کے ساتھ۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں وہ اس مینجمنٹ کے ساتھ آگے نہیں چل سکتے۔

کپتان کے مطابق آسٹریلیا پہنچنے کے بعد کھلاڑی 13 سے 14 گھنٹے تک سڑک پر انتظار کرتے رہے اور انتظامیہ نے کوئی تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ پانچ دن بعد ورلڈ کپ کوالیفائنگ راؤنڈ ہے جو ٹیم اور فیڈریشن دونوں کے لیے اہم ہے، مگر وقت کم ہونے کے باعث فوری اقدامات ضروری ہیں۔

عماد بٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مطالبہ کیا کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف پہلے ہی اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دے چکے ہیں اور کہا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں ٹیم کے لاہور ایئرپورٹ پہنچنے پر کوئی سرکاری استقبال یا ٹرانسپورٹ موجود نہیں تھی اور کھلاڑی نجی گاڑیوں یا ٹیکسی کے ذریعے روانہ ہوئے۔

سابق کھلاڑیوں اور سوشل میڈیا صارفین نے بھی معاملے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ٹیم کے بیرون ملک دورے کے لیے فنڈز جاری کیے گئے تھے تو کھلاڑیوں کو مشکلات کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے تاحال ان الزامات پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

Read Previous

ترکیہ میں حجاب کی جیت اور روایتی ساتر لباس کی عزت کا ایک تاریخی واقعہ

Read Next

ترک وزیرِ خارجہ حاکان فیدان ٹرمپ کے “بورڈ آف پیس” کے اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن روانہ ہوں گے

Leave a Reply