turky-urdu-logo

ایردوان کا شام میں اتحاد اور پائیدار امن پر زور، ’زیادہ سے زیادہ مطالبات‘ سے خبردار

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے شام میں استحکام، مفاہمت اور پائیدار امن پر زور دیتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اتحاد کو ترجیح دیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو دیرپا امن کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

بدھ کے روز دارالحکومت انقرہ میں جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ (اے کے) پارٹی کے پارلیمانی گروپ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ شام کے لیے ہماری سب سے بڑی خواہش استحکام اور امن کا قیام ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ شامی عوام اتحاد کے ساتھ مل کر اپنا مستقبل تعمیر کریں۔

انہوں نے شام میں کئی برسوں سے جاری تنازع کے بعد ملک کی مختلف نسلی اور مذہبی برادریوں کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ طویل المدتی سیاسی حل کے خدوخال اب واضح ہو رہے ہیں، اس لیے تمام فریقین کو ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے بچنا ہوگا۔

صدر ایردوان نے خبردار کیا کہ شام میں دیرپا امن کے لیے طے شدہ روڈ میپ پر عمل درآمد ضروری ہے اور فریقین کو غلط اندازوں، پرانی غلطیوں کی تکرار یا زیادہ سے زیادہ مطالبات کے ذریعے امن کے عمل کو آلودہ کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

انہوں نے جنگ کے انسانی نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام میں بہنے والا ہر خون کا قطرہ ہمارے دلوں کو زخمی کرتا ہے، چاہے وہ عرب ہو، ترکمان، کرد ہو یا نصیری۔ شام میں ضائع ہونے والی ہر جان ہمیں یوں محسوس ہوتی ہے جیسے ہم اپنا کوئی حصہ کھو بیٹھے ہوں۔

صدر ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ شام کی تعمیر نو اور اقتصادی بحالی پر توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ شام کے زمینی اور زیرِ زمین وسائل کو سرنگیں کھودنے کے بجائے معاشرے کے تمام طبقات کی خوشحالی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔

علاقائی خدشات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ ترکیہ خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ خطے میں بالادستی نہیں چاہتا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کی سمت متعین کرنے کی خواہش رکھتا ہے، بلکہ ہم خلوصِ نیت سے بھائی چارے کے خواہاں ہیں۔

صدر ایردوان کے اس بیان کو ایسے وقت میں اہم قرار دیا جا رہا ہے جب شام میں سیاسی حل، علاقائی تعاون اور تعمیر نو سے متعلق سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔

Read Previous

اوزل کی کیچی اورین کے میئر کے استعفے پر تنقید، اے کے پی سے مبینہ روابط کا الزام

Leave a Reply