ترکیہ کی مجموعی آبادی 2025 میں اضافہ ہو کر 8 کروڑ 60 لاکھ 92 ہزار 168 تک پہنچ گئی ہے۔ ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) کی جانب سے جاری کردہ ’’ایڈریس بیسڈ پاپولیشن رجسٹریشن سسٹم 2025‘‘ کے مطابق ملک کی آبادی میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 لاکھ 27 ہزار 224 افراد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 2024 میں ترکیہ کی آبادی 8 کروڑ 56 لاکھ 64 ہزار 944 تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق سالانہ شرحِ آبادی میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جو 2024 میں 3.4 فی ہزار سے بڑھ کر 2025 میں 5 فی ہزار تک پہنچ گئی۔ مجموعی آبادی میں مردوں کی شرح 50.02 فیصد ہے جن کی تعداد 4 کروڑ 30 لاکھ 59 ہزار 434 ہے، جبکہ خواتین کی شرح 49.98 فیصد ہے اور ان کی تعداد 4 کروڑ 30 لاکھ 32 ہزار 734 بتائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق شہری آبادی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور 93.6 فیصد افراد صوبائی اور ضلعی مراکز میں رہائش پذیر ہیں، جبکہ دیہات اور قصبوں میں رہنے والوں کی شرح کم ہو کر 6.4 فیصد رہ گئی ہے۔
ترکیہ میں مقیم غیر ملکیوں کی تعداد بھی بڑھ کر 15 لاکھ 19 ہزار 515 ہو گئی ہے، جس میں خواتین کی شرح 50.7 فیصد جبکہ مردوں کی شرح 49.3 فیصد ہے۔ اس تعداد میں وہ افراد شامل ہیں جن کے پاس رہائشی یا ورک پرمٹ، بین الاقوامی تحفظ کی شناخت یا بلیو کارڈ موجود ہے، جبکہ عارضی طور پر مقیم افراد اور شامی مہاجرین اس میں شامل نہیں۔
شہری سطح پر استنبول بدستور سب سے بڑا شہر رہا، جہاں آبادی بڑھ کر 1 کروڑ 57 لاکھ 54 ہزار 53 ہو گئی، جو ملک کی مجموعی آبادی کا 18.3 فیصد بنتی ہے۔ دارالحکومت انقرہ 59 لاکھ 10 ہزار 320 افراد کے ساتھ دوسرے جبکہ ازمیر 45 لاکھ 4 ہزار 185 افراد کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔ اس کے علاوہ برسا اور انطالیہ بھی بڑے شہروں میں شامل ہیں۔
ترکیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ضلع کی آبادی 10 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ استنبول کے ضلع ایسن یورت کی آبادی 10 لاکھ 3 ہزار 905 تک پہنچ گئی، جو ملک کا سب سے زیادہ آبادی والا ضلع بن گیا ہے۔
رپورٹ میں آبادی کے بڑھتے ہوئے اوسط عمر کے رجحان کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ ترکیہ میں اوسط عمر 2024 میں 34.4 سال سے بڑھ کر 2025 میں 34.9 سال ہو گئی ہے۔ مردوں کی اوسط عمر 34.2 جبکہ خواتین کی 35.7 سال ریکارڈ کی گئی۔ صوبہ سینوپ میں اوسط عمر سب سے زیادہ 44 سال جبکہ شانلی عرفہ میں سب سے کم 21.8 سال رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق 15 سے 64 سال کی عمر کے افراد پر مشتمل کام کرنے کے قابل آبادی کا تناسب بڑھ کر 68.5 فیصد ہو گیا ہے، جبکہ 0 سے 14 سال کے بچوں کا تناسب کم ہو کر 20.4 فیصد رہ گیا ہے۔ اسی طرح 65 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کا تناسب بڑھ کر 11.1 فیصد ہو گیا ہے، جو آبادی کے بتدریج عمر رسیدہ ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔ ملک بھر میں آبادی کی کثافت اوسطاً 112 افراد فی مربع کلومیٹر ریکارڈ کی گئی ہے۔ استنبول سب سے زیادہ گنجان آباد شہر رہا جہاں فی مربع کلومیٹر 2 ہزار 943 افراد رہتے ہیں، جبکہ صوبہ تونج ایلی سب سے کم گنجان آباد علاقہ رہا جہاں یہ شرح 11 افراد فی مربع کلومیٹر ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ 2024 میں 40 صوبوں میں آبادی میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جو 2025 میں کم ہو کر 33 صوبوں تک محدود رہ گئی، جس سے علاقائی آبادی کے رجحانات میں جزوی استحکام ظاہر ہوتا ہے
