ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکیہ شام کے استحکام کی حمایت جاری رکھے گا اور اس کی تعمیرِ نو کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ یہ بات انہوں نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران کہی۔
ترکیہ کے صدارتی شعبۂ مواصلات کے جاری کردہ بیان کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی و عالمی امور، توانائی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مختلف شعبوں میں عملی اقدامات کے ذریعے “مزید بلند سطح” پر لے جانے کے لیے پُرعزم ہے۔
شام کے معاملے پر دونوں ممالک نے شامی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی، استحکام اور علاقائی سالمیت برقرار رکھنے کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے دمشق کی حمایت اور پابندیاں ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کا خیرمقدم کیا۔ 30 جنوری کو اعلان کردہ جنگ بندی اور انضمام معاہدے کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف شام کی جدوجہد کی بھی تائید کی۔
مشترکہ اعلامیے میں شام میں اسرائیل کی جانب سے بار بار کیے جانے والے حملوں کی شدید مذمت کی گئی، جنہیں بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ شامی علاقوں سے فوری طور پر انخلا کرے۔
صدر ایردوان نے غزہ کے حوالے سے کہا کہ ترکیہ وہاں کی تعمیرِ نو کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہے اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ انسانی بحران کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں تیز کرے۔ دونوں رہنماؤں نے یمن کی تازہ صورتحال اور مشرقی افریقہ میں ہونے والی پیش رفت پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
اقتصادی معاملات پر ترکیہ اور سعودی عرب نے تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں سعودی وژن 2030 اور ترکیہ کے “صدیِ ترکیہ” وژن کے تحت سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے پر اتفاق کیا گیا۔ نان آئل تجارت کے فروغ، سرکاری و نجی شعبے کے باہمی دوروں میں اضافے اور ترکیہ-سعودی بزنس کونسل کے ذریعے تجارتی سرگرمیوں کے انعقاد پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ ترکیہ اور خلیجی تعاون کونسل (GCC) کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے مذاکرات مکمل کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔
غزہ کے معاملے پر دونوں ممالک نے بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال، جاری اسرائیلی حملوں اور امداد کی ترسیل میں رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امدادی کوششیں تیز کرنے، سرحدی راستے مکمل طور پر کھولنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اسرائیل پر عالمی دباؤ بڑھانے کا مطالبہ کیا۔
اعلامیے میں فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، جس کی سرحدیں 1967 سے پہلے کی ہوں اور مشرقی القدس کو دارالحکومت بنایا جائے۔
اس موقع پر بتایا گیا کہ صدر ایردوان 4 فروری کو ریاض سے قاہرہ روانہ ہوئے، جہاں وہ ترک-مصری اعلیٰ سطحی اسٹریٹجک تعاون کونسل کے دوسرے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ قاہرہ میں ان کی مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات متوقع ہے، جس میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور، خصوصاً فلسطین، پر بات چیت ہوگی۔ صدر ایردوان دورے کے دوران ایک کاروباری فورم میں بھی شرکت کریں گے۔
