turky-urdu-logo

اسرائیلی دباؤ میں آ کرایران پرحملہ سے گریز کریں: ترکیہ کی امریکا کو تنبیہ

ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے جمعے کے روز امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ اسرائیلی دباؤ میں آ کر ایران پر فوجی حملہ کرنے سے گریز کرے، کیونکہ ایسا اقدام پہلے ہی غیر مستحکم مشرقِ وسطیٰ کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

استنبول میں ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاقان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اس بات کو واضح طور پر دیکھ رہا ہے کہ اسرائیل، امریکہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ ہم امید کرتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ ہوش مندی کا مظاہرہ کرے گی اور اسرائیل کے دباؤ میں آ کر ایران پر حملے کی اجازت نہیں دے گی۔

ترک وزیرِ خارجہ نے واضح کیا کہ انقرہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور ایران کے اندرونی مسائل کے حل کو ایرانی عوام کا داخلی معاملہ قرار دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے ہر موقع پر اپنے شراکت داروں کو بتایا ہے کہ ہم ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے سخت خلاف ہیں۔

حاقان فیدان نے بتایا کہ انہوں نے ایران سے متعلق کشیدگی پر امریکی خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف سے بات چیت کی ہے اور وہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی حکام سے رابطے جاری رکھیں گے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ترکیہ، واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ یہ پیش رفت اس کے بعد سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر فوری فوجی حملے کے موقف میں نرمی اختیار کی۔

ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اس وقت بڑھی جب ٹرمپ نے ایران میں معاشی بدحالی کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد فوجی کارروائی کی دھمکی دی۔ امریکہ نے خطے میں ایک اور جنگی جہاز بھیج دیا ہے، جبکہ پینٹاگون نے کہا ہے کہ فوج صدر کے کسی بھی فیصلے پر عمل کے لیے تیار ہے۔

امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کے لیے ایران کے میزائل پروگرام کو محدود کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جسے تہران نے مسترد کر دیا ہے۔

اس موقع پر عباس عراقچی نے کہا کہ سفارت کاری اسی صورت کامیاب ہو سکتی ہے جب امریکہ دھمکیوں اور جنگی اقدامات سے باز آئے۔ انہوں نے واضح کیاکہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن دفاعی صلاحیتوں کو مذاکرات میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے اور ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔

عباس عراقچی نے اسرائیل پر خطے میں جنگ بھڑکانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کو اتحاد کے ساتھ بیرونی مداخلت کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔

انہوں نے ترکیہ کا شکریہ ادا کیا کہ اس نے گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی حمایت کی اور کہا کہ تہران اور انقرہ، اسرائیل کے علاقائی منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے کسی بھی امن اقدام کا خیرمقدم کریں گے۔

دونوں وزرائے خارجہ نے ترکیہ اور ایران کے تعلقات کو برادرانہ اور دوستانہ قرار دیا اور اقتصادی تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔

Read Previous

ایران کی بحری تیاریوں نے امریکی فوجی منصوبہ بندی کو مشکل بنا دیا

Read Next

صدر رجب طیب ایردوان کی استنبول میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات

Leave a Reply