خلیجِ فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے، جو دنیا کی سب سے طاقتور بحریہ اور جدید طیارہ بردار جہازوں کا حامل ہے، جبکہ دوسری جانب ایران ہے، جو اپنی محدود بحری طاقت کے باوجود مختلف اور غیر روایتی طریقوں سے امریکی بحری برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔
عسکری ماہرین کے مطابق ایران براہِ راست جنگ کے بجائے ایسی حکمتِ عملی اپنا رہا ہے جس کا مقصد بڑے اور مہنگے امریکی جنگی جہازوں کو نقصان پہنچانا ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ کسی بھی فوری اور بڑے فوجی اقدام سے پہلے محتاط نظر آتا ہے۔
ایرانی بحریہ کے پاس بڑی تعداد میں چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں موجود ہیں جو جنگ کی صورت میں ایک ساتھ مختلف سمتوں سے حملہ کر سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر درجنوں کشتیاں ایک ہی وقت میں راکٹ اور میزائل فائر کریں تو جدید دفاعی نظام بھی شدید دباؤ میں آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے بعض تجارتی جہازوں اور کنٹینرز کو اس انداز میں تیار کیا ہے کہ وہ عام مال بردار جہاز دکھائی دیتے ہیں، مگر ضرورت پڑنے پر ان سے اچانک میزائل داغے جا سکتے ہیں۔ یہ میزائل سطحِ سمندر کے قریب پرواز کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں بروقت پکڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایران کی بحری طاقت میں چھوٹی اور خاموش آبدوزیں بھی شامل ہیں، جنہیں تلاش کرنا جدید سونار نظام کے لیے بھی آسان نہیں۔ عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق یہ آبدوزیں بڑے جنگی جہازوں کو نشانہ بنا کر انہیں حرکت کے قابل نہ رہنے دے سکتی ہیں۔
ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں وہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل موجود ہیں جو دور دراز اہداف تک پہنچ سکتے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ عسکری طور پر برتر ہے، لیکن ایران کی غیر متوقع اور غیر روایتی حکمتِ عملی کسی بھی ممکنہ تصادم کو پیچیدہ اور مہنگا بنا سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک فی الحال کھلی جنگ سے گریز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
