turky-urdu-logo

ترکیہ اور نائجیریا کے درمیان 5 ارب ڈالر تجارتی ہدف کے حصول پر اتفاق، نو معاہدوں پر دستخط

صدرِ ترکیہ رجب طیب ایردوان نے نائجیریا کے صدر بولا احمد ٹینوبو کا انقرہ میں سرکاری استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے دوران فریقین نے دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے عزم کا اعادہ کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

مذاکرات کے بعد صدر رجب طیب ایردوان اور صدر ٹینوبو نے دفاع، توانائی، تعلیم، میڈیا اور ڈائسپورا پالیسی سمیت مختلف شعبوں میں نو باہمی معاہدوں پر دستخط کی تقریب کی نگرانی کی۔ ان معاہدوں کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مضبوط بنانا اور اقتصادی و تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے موجودہ تجارتی حجم کو 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا، جن میں مشترکہ اقتصادی و تجارتی کمیٹی (JETCO) کے قیام پر بھی غور شامل ہے، تاکہ تجارت میں درپیش رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ ملے۔

دفاع اور سلامتی کے شعبے میں ترکیہ نے دہشت گردی کے خلاف نائجیریا کی کوششوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے عسکری اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ توانائی کے شعبے میں ترک پیٹرولیم کارپوریشن اور نائجیریا کی توانائی کمپنیوں کے درمیان تعاون، سرمایہ کاری اور اقتصادی اصلاحات کے حوالے سے پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

توانائی کی تجارت کو شامل کرتے ہوئے نائجیریا کو سب صحارا افریقہ میں ترکیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار قرار دیا گیا۔ 2025 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران دوطرفہ تجارت کا حجم 688 ملین ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

صدر بولا احمد ٹینوبو کا انقرہ کا دورہ ترکیہ اور نائجیریا کے درمیان سفارتی اور اقتصادی تعلقات کے استحکام میں ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے اور شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

Read Previous

ترکیہ کے پہلے مقامی طیارے کی تاریخی پرواز کی صد سالہ تقریب

Read Next

سافرانبولو میں ترکیہ کے پہلے شیشے والے نظارے کے ڈیک نے سیاحوں کی توجہ حاصل کر لی

Leave a Reply