turky-urdu-logo

ترکیہ کی پاک-سعودی اتحاد میں شمولیت کی تزویراتی اہمیت

9 جنوری 2026 موقر میڈیا ادارے "بلومبرگ” نے ایسی خبر دی جس نے عالمی تزویراتی نقشے پر ارتعاش پیدا کر دیا۔ بلومبرگ نیوز نے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا کہ "ترکیہ جلد سعودی-پاکستان دفاعی اتحاد میں باضابطہ طور پر شامل ہونے جا رہا ہے۔” یہ پیش رفت ایک ایسے طاقتور سکیورٹی بلاک کی تشکیل کی جانب اشارہ ہے جو مشرقِ وسطیٰ سے لے کر ایشیا اور افریقہ کے دور دراز علاقوں تک طاقت کے روایتی توازن کو یکسر تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ستمبر 2025 میں سعودی عرب اور پاکستان نے ایک تاریخی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کی سب سے منفرد اور طاقتور شق نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے چارٹر کے "آرٹیکل 5” سے مماثلت رکھتی ہے۔ اس اصول کے تحت کسی بھی ایک رکن ملک پر حملہ تمام فریقین پر حملہ تصور کیا جائے گا. اس اتحاد میں ترکیہ کی شمولیت اسے وہ عسکری گہرائی فراہم کر دے گی جو اس سے قبل نوآبادیاتی دور سے آزادی پانے والے مسلم ممالک میں مفقود رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ترکیہ کی جانب سے اس اتحاد میں شمولیت کی کوششیں ابتدائی بات چیت سے نکل کر اب تزویراتی مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں۔ انقرہ کے لیے اس نئے بلاک کا حصہ بننا ایک منطقی ضرورت ہے۔

کیونکہ ایک طرف حالیہ برسوں میں جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور یہاں تک کہ افریقی براعظم میں ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات یکساں ہوتے گئے ہی۔

دوسری طرف ترکیہ نیٹو میں امریکہ کے بعد دوسری سب سے بڑی عسکری قوت ہونے کے باوجود امریکہ کی عالمی ساکھ کے بارے میں بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات اور ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو کے ساتھ غیر یقینی وابستگی نے انقرہ کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنی قومی سلامتی اور ڈیٹرنس کے لیے متبادل اور زیادہ قابلِ بھروسہ اتحادی ڈھونڈے۔

اس لیے یہ اتحاد ترکیہ کے لیے ایک ایسی سکیورٹی ڈھال ثابت ہو سکتا ہے جہاں وہ مغرب پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنی خود مختار حیثیت کو منوا سکتا ہے۔

بلومبرگ نے اپنی رپورٹ میں پاک سعودی اتحاد میں ممکنہ شمولیت کو انقرہ اور ریاض کے تعلقات میں ایک "سنہری عہد” کے آغاز سے تعبیر کیا ہے۔

واضع رہے کہ ماضی میں یہ دونوں ممالک "سنی مسلم دنیا” کی قیادت کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے تھے۔ آج کے بدلتے ہوئے حالات میں دونوں دارالحکومتوں نے اپنے ماضی کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دفاعی اور اقتصادی تعاون کے ایک ایسے فریم ورک پر کام شروع کیا ہے جس کا مقصد مشترکہ خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس تزویراتی ہم آہنگی میں پاکستان کا کردار ایک پل کی مانند ہے، جس کے ایک طرف ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔ ترکیہ نہ صرف پاکستانی بحریہ کے لیے جدید ترین کارویٹ جنگی جہاز بنا رہا ہے بلکہ اس نے پاکستان کے ایف-16 بیڑے کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان اپنی طیارہ اور میزائل سازی کی مہارت کو ترکہ کے ساتھ شیئر کر رہا ہے۔

ترکیہ کی ٹیکنالوجی، سعودی معیشت کی مضبوطی اور پاکستان کی عسکری مہارت اور ایٹمی صلاحیت، علاوہ ڈرون ٹیکنالوجی کا اشتراک اور پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کی مشترکہ تیاری کے منصوبے اس اتحاد کو تکنیکی لحاظ سے دنیا کے کسی بھی جدید ترین فوجی بلاک کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں۔

اس تزویراتی منظر نامے پر روشنی ڈالتے ہوئے ترک امور کے نامور ماہر محمود علوش کا تجزیہ انتہائی چشم کشا ہے۔ علوش کے مطابق، ترکیہ کا واضح مقصد ایک ایسا اتحاد تشکیل دینا ہے جس میں اسلامی دنیا کی صفِ اول کی طاقتیں شامل ہوں تاکہ تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا میں اپنے ملی عزائم اور مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اسلامی دنیا کو اس وقت جن بڑے خطرات کا سامنا ہے، ان میں "اسرائیل کی جانب سے عرب ممالک کو تقسیم کرنے اور ان کے ٹکڑے کرنے اور ترکی کا گھیراو کرنے کے منصوبے سرفہرست ہیں”۔ جس کے مقابلے میں امریکہ اور نیٹو کی سکیورٹی گارنٹی پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا”۔ اس صورتحال میں "ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان ایک ایسی تکون تشکیل دیتے ہیں جو طاقت، معیشت اور ٹیکنالوجی کا مثالی امتزاج ہے۔ ترکیہ ایک فوجی اور اقتصادی قوت ہے، سعودی عرب عالمی معیشت کا انجن اور اسلامی دنیا کا قلب ہے، جبکہ پاکستان ایک ایٹمی اور عسکری طاقت ہے؛ ان تینوں کا ملاپ علاقائی حرکیات کو یکسر بدل کر رکھ دے گا۔” ان کے بقول، اسرائیل شام، یمن، سوڈان اور لیبیا جیسے ممالک کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ ترکیہ، سعودی عرب اور مصر جیسی بڑی ریاستوں کا محاصرہ کیا جا سکے، اور یہ نیا دفاعی اتحاد ان ہی سازشوں کے خلاف ایک مضبوط فصیل بن کر ابھرے گا۔

ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے اس اتحاد کو اسلامی دنیا کی "ایک صدی کی گہری نیند” سے بیداری قرار دیا ہے۔ ان کے بقول، خطے کے ممالک اب اس حقیقت کو جان چکے ہیں کہ جب تک وہ متحد ہو کر اپنے مسائل کا حل خود تلاش نہیں کریں گے، بیرونی مداخلت کار ان کے بحرانوں کو کبھی ختم نہیں ہونے دیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ اب کوئی راز نہیں رہا کہ، یمن سے لے کر صومالی لینڈ تک اسلامی ممالک کے بحرانوں کو ایک ہی مرکز سے کنٹرول کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد خطے کی اسلامی ریاستوں کو کمزور کرنا ہے۔

ترک وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ترکیہ کی پاک-سعودی اتحاد میں شمولیت کی خواہش صرف ایک دفاعی ضرورت نہیں بلکہ ایک سیاسی بیداری کا اظہار بھی ہے۔ یہ اتحاد اس وژن کی عملی شکل ہے جس کی وکالت صدر رجب طیب ایردوان برسوں سے کر رہے ہیں کہ "علاقائی مسائل کا حل علاقائی قوتوں کے ذریعے ہی ہونا چاہیے”۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر یہ سہ فریقی بلاک اپنی مکمل شکل میں سامنے آتا ہے، تو یہ نہ صرف اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کے سامنے بند باندھے گا بلکہ عالمی سطح پر اسلامی دنیا کو ایک ایسی آواز عطا کرے گا جسے نظرانداز کرنا اب کسی بھی عالمی طاقت کے لیے ممکن نہیں رہے گا۔ یہ ایک نئے دور کا آغاز ہے جہاں انقرہ، ریاض اور اسلام آباد مل کر مستقبل کی تاریخ لکھنے کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔

Read Previous

صدر رجب طیب اردوان کی دوزجے کے بزرگ شہریوں سے ملاقات، جذباتی لمحات رقم

Read Next

سعودی عرب اور ترکیہ کے سفیروں کی اسلام آباد میں اہم ملاقات

Leave a Reply