یہ مظاہرہ 400 سے زائد سول سوسائٹی تنظیموں کی شرکت سے منعقد ہوا، جس کی قیادت ترک یوتھ فاؤنڈیشن (TUGVA) نے کی۔ مارچ میں پانچ لاکھ بیس ہزار سے زائد شہریوں نے شرکت کی ۔
مارچ کا سلوگن تھا:
"ہم نہ جھکیں گے، نہ خاموش رہیں گے، نہ فلسطین کو بھولیں گے”۔
مارچ سے خطاب کرتے ہوئے علم یایما فاؤنڈیشن کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے چیئرمین اور TUGVA کی اعلیٰ مشاورتی کونسل کے رکن بلال ایردوان نے کہا کہ ترک قوم نے نئے سال کا آغاز فلسطین کے لیے دعاؤں کے ساتھ کیا ہے، اور سال کے پہلے دن مساجد میں جمع ہو کر دعا کرنا ایک گہری روحانی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فجر کے وقت مساجد میں اکٹھا ہونا، اجتماعی دعائیں مانگنا اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کرنا ترک قوم کی اخلاقی اور روحانی طاقت کی علامت ہے۔
ان کے مطابق،
“ہم ایک طرف فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے دعا کر رہے ہیں، دوسری جانب اپنے شہداء کو یاد کر رہے ہیں، اور ساتھ ہی یہ دعا بھی مانگ رہے ہیں کہ نیا سال 2026 ہماری قوم اور فلسطینی عوام کے لیے خیر و برکت لے کر آئے۔”
بلال ایردوان نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ ہر سال اس اجتماع میں شرکت بڑھ رہی ہے، جو معاشرے میں مشترکہ اقدار اور اتحاد کی مضبوطی کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی یہ یکجہتی قابلِ فخر ہے اور یہی جذبہ مستقبل کے لیے امید پیدا کرتا ہے۔
آخر میں انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ فلسطینی عوام کو آزادی عطا فرمائے، بیت المقدس کو آزادی نصیب ہو، اور ترک قوم کو اس مؤقف پر فخر کرنے کا موقع دے۔
