برلن: جرمن چانسلر فریڈرِش مرز نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ یوکرین امن منصوبے میں جنیوا مذاکرات کے بعد تبدیلیاں کی گئی ہیں، تاہم کسی بھی حتمی منصوبے کے لیے یورپی ممالک کا اتفاقِ رائے ناگزیر ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں مرز نے زور دیا کہ امن کا کوئی بھی حل یورپی مفادات اور خود مختاری کو مدنظر رکھ کر تشکیل دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ جنیوا میں طے پانے والی مشترکہ یورپی پوزیشن کو آئندہ چند دنوں میں یورپی سربراہان کے درمیان مزید مشاورت کے ذریعے حتمی شکل دی جائے گی۔
چانسلر مرز کے مطابق،
"اس ہفتے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں، اگلا مرحلہ یہ ہے کہ روس کو مذاکرات کی میز پر لایا جائے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین پر یکطرفہ علاقائی رعایتیں تھوپنا ناقابل قبول ہے، اور یوکرین کو مضبوط مسلح افواج اور اتحادی ممالک کی جانب سے سکیورٹی گارنٹیز ملنی چاہییں۔
یورپی رہنماؤں نے ایک بار پھر اس مؤقف کو دہرایا ہے کہ یوکرین کی سرحدوں میں طاقت کے ذریعے کوئی تبدیلی قابل قبول نہیں، اور امن کے لیے جامع، باعزت اور دیرپا حل کی ضرورت ہے۔
