اسلام آباد — پاکستان اور ترکیہ نے سمندری رابطوں کو مضبوط بنانے کے لیے فیری سروس شروع کرنے پر غور شروع کر دیا ہے، جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سیاحت، تجارت اور عوامی روابط کو مزید فروغ دینا ہے۔ اس اہم پیش رفت سے پاک–ترک تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
فیری سروس کے آغاز پر غور کے ساتھ ساتھ جہاز سازی اور شپ بریکنگ انڈسٹری میں بھی تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے، جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے تجربات اور جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکام کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف تجارت کی لاگت کم ہوگی بلکہ سیاحت کو فروغ ملے گا اور دونوں ممالک کے کاروباری حلقوں کے لیے نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔ ابتدائی طور پر کراچی اور ترکیہ کی بندرگاہوں کے درمیان رابطے پر کام کیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجوزہ فیری سروس جنوبی ایشیا اور یورپ کے درمیان نئے تجارتی راستے کھولنے میں مدد دے گی جبکہ سی پیک اور علاقائی رابطہ کاری کے منصوبوں کے لیے بھی معاون ثابت ہو گی۔
عوامی سطح پر بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کیا جا رہا ہے، اور توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس منصوبے پر عملی اقدامات سامنے آئیں گے۔
