turky-urdu-logo

ترک میڈیا کا مطالبہ: مسلم ممالک متحد ہوں — فوری طور پر "اسلامی نیٹو” قائم کیا جائے


ترک میڈیا نے یک زبان ہو کر مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ بین الاقوامی خطرات اور خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ نظر مسلم ممالک کو فوری طور پر ایک مربوط دفاعی و سفارتی اتحاد یعنی "اسلامی نیٹو” قائم کرنا چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس تجویز کا مقصد صرف عسکری ہم آہنگی نہیں بلکہ سیاسی یکجہتی، ماورائے سرحد سفارتی لائحہ عمل، اشتراکی سلامتی فریم ورک، مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ اور انسانی ہمدردی کے فوری اقدامات کو مؤثر بنانا ہے۔


ترک میڈیا نے زور دیا کہ دنیا کے بدلتے ہوئے جیو پولیٹیکل ماحول میں مسلم ممالک کے لیے ایک مشترکہ فورم ناگزیر ہو گیا ہے جہاں رکن ممالک ایک دوسرے کی سرحدی سالمیت، اقوامِ متحدہ کے بنیادی اصول اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات کر سکیں۔ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ اس قسم کا اتحاد ریسورس شیئرنگ (توانائی، طبی امداد، لاجسٹکس)، مشترکہ دفاعی مشقیں، بحران کے دوران فوری ریلیف ڈپلائمنٹس اور بیرونی مداخلت کے خلاف سفارتی یکجہتی بھی مہیا کر سکتا ہے۔


کئی کالم نگاروں نے اس تجویز کو اس پس منظر سے جوڑا کہ بعض عالمی و علاقائی حالات میں مسلم اکائیوں کی آواز منتشر دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں اہم موضوعات پر مؤثر عالمی اثر و رسوخ پیدا نہیں ہو پا رہا۔ ترک ذرائع نے نشاندہی کی کہ اگر مسلم ممالک نے باہمی اعتماد اور شفاف میکانزم کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ دفاعی و سیاسی ڈھانچہ قائم کیا تو وہ اپنی خودمختاری کا بہتر دفاع کر سکتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر فلسطین، کشمیر اور دیگر حساس ایشوز پر متفقہ موقف اختیار کر کے زیادہ مضبوط سفارتی نتائج حاصل کر پائیں گے۔


تاہم بعض مبصرین نے خبردار کیا کہ "اسلامی نیٹو” جیسے اقدام میں تاخیر یا غیر متوازن ساخت خطے میں نئی کشیدگیوں کو جنم دے سکتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ دفاعی اتحاد کے قیام سے پہلے رکن ریاستوں کے درمیان اعتماد سازی،

Read Previous

افغان حکومت کا دوٹوک مؤقف: بگرام ایئربیس کسی کو نہیں دیں گے

Read Next

پاکستان سے ترکیہ تک بین الثقافتی رضاکارانہ سفر کا باضابطہ آغاز

Leave a Reply