انقرہ — ترکیہ نے اپنی عسکری خودکفالت کے دیرینہ خواب کو حقیقت میں بدلتے ہوئے مقامی طور پر تیار کردہ جدید لڑاکا ٹینک "آلٹائے” کی باقاعدہ پیداوار کا آغاز کر دیا ہے۔ اس اقدام کو ملک کی دفاعی صنعت کے لیے تاریخی سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں ترکیہ نے جنگی طیاروں، بے پائلٹ ہواباز (ڈرون) سسٹمز، بحری جہازوں، ٹینکوں، میزائل اور فضائی دفاعی نظاموں میں نمایاں حد تک خود انحصاری حاصل کر لی ہے۔
حکومتی اور دفاعی حلقوں کے مطابق آلٹائے منصوبہ ایک مربوط قومی کوشش کا نتیجہ ہے جس میں ترکیہ کی دفاعی صنعت کی معروف کمپنیوں، یونیورسٹیوں اور تحقیقی اداروں نے مشترکہ شراکت داری کے تحت طویل عرصے کی محنت کے بعد یہ کامیابی حاصل کی۔
ترکیہ کی دفاعی صنعت کے ادارے — بشمول ترکیہ ڈیفنس انڈسٹریز سیکریٹریٹ (SSB)، Roketsan، Baykar، Turkish Aerospace Industries (TAI) اور دیگر قومی صنعت کار — نے اس خود کفالت کے عمل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ آلٹائے ٹینک کی مقامی پیداوار نہ صرف ترکیہ کی فوجی طاقت کو مضبوط کرے گی بلکہ ملکی معیشت اور تکنیکی صلاحیتوں کو بھی فروغ دے گی۔ اس کے ذریعے ملکی ملازمتوں میں اضافہ، تکنیکی منتقلی اور دفاعی برآمدات کو مستحکم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ علاوہ ازیں، یہ اقدام بیرونی انحصار کم کر کے قومی دفاعی حکمتِ عملی کو زیادہ لچکدار اور خودمختار بنائے گا۔
ترکیہ کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ دفاعی خودکفالت ریاستی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور آئندہ بھی ملکی صلاحیتوں کو مزید بڑھانے کے لیے سرمایہ کاری جاری رہے گی۔ اس موقع پر صدر اور متعلقہ وزارتی حکام نے مسلح افواج، دفاعی صنعت کاروں اور تحقیقاتی ٹیموں کی کوششوں کو سراہا اور آئندہ مرحلوں میں ٹینک کے مختلف اپ گریڈ ماڈیولز، ملکی ساختہ مین ٹیک سسٹمز اور برآمداتی منصوبوں پر توجہ جاری رکھنے کا عندیہ دیا۔
مقامی پیداوار کے آغاز کے ساتھ ہی ترکیہ دفاعی میدان میں ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے — وہ دور جس میں جنگی صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ صنعتی اور تکنیکی خود کفالت بھی قومی عزائم کا مرکزی جزو بن گئی ہے۔ اس کامیابی کو علاقائی توازن اور بین الاقوامی دفاعی مارکیٹس پر ترکیہ کی پوزیشن کو مضبوط کرنے والا ایک بڑا قدم سمجھا جا رہا ہے۔
