turky-urdu-logo

قطر میں حماس وفد پر اسرائیلی حملہ ، حماس کا باضابطہ بیان سامنے آگیا

دوحہ – فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے کہا ہے کہ آج دوحہ، قطر میں اس کے مذاکراتی وفد کو صہیونی غاصب کی جانب سے بزدلانہ قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ تاہم حماس کے مطابق وفد کی قیادت محفوظ رہی جبکہ متعدد ارکان اور محافظ شہید ہو گئے۔

حماس کے جاری کردہ اہم بیان میں کہا گیا کہ یہ حملہ ایک سنگین جرم اور قطر کی خودمختاری پر براہِ راست حملہ ہے، جو مصر کے ساتھ مل کر جنگ بندی اور اسیران کے تبادلے کے لیے ثالثی کی کوششوں کی میزبانی کر رہا ہے۔شہداء کی تفصیلحماس نے تصدیق کی ہے کہ اس حملے میں شہید ہونے والوں میں شامل ہیں:جهاد لبد (ابو بلال) – ڈاکٹر خلیل الحیہ کے دفتر کے ڈائریکٹرہمام الحیہ (ابو یحییٰ) – ڈاکٹر خلیل الحیہ کے صاحبزادےعبدالله عبدالواحد (ابو خلیل) – محافظمؤمن حسونة (ابو عمر) – محافظاحمد المملوک (ابو مالک) –

محافظاس کے علاوہ قطر کے سکیورٹی ادارے "لخویا” کے اہلکار بدر سعد محمد الحمیدی بھی اس حملے میں جامِ شہادت نوش کر گئے۔امریکا اور اسرائیل پر ذمہ داریحماس نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی اس وقت ہوئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تازہ تجویز پر مذاکرات جاری تھے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کسی معاہدے کے خواہاں نہیں اور عالمی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ بیان میں امریکا کو بھی اس جرم کا شریکِ جرم قرار دیا گیا ہے۔حماس کا موقفبیان میں کہا گیا ہے کہ یہ بزدلانہ حملہ ہمارے موقف کو نہیں بدل سکتا۔

حماس کے مطالبات واضح ہیں:فلسطینی عوام پر حملوں کا فوری خاتمہ،غزہ سے قابض فوج کا مکمل انخلاء،قیدیوں کا حقیقی تبادلہ،متاثرہ عوام کی امداد اور تعمیر نو۔حماس نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ قطر کی خودمختاری پر اس مجرمانہ حملے کی مذمت کریں اور اسرائیل کو اس کی جارحانہ پالیسیوں سے روکا جائے۔

Read Previous

ترک ثقافتی دورے کے لیے پاکستانی طلبہ کی روانگی پر وزارتِ تعلیم میں اجلاس

Read Next

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یورپی یونین سے مطالبہ: بھارت اور چین پر 100 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد کی جائے

Leave a Reply