آج سلجوقی سلطنت کے بانی طغرل بیگ کایوم وفات ہے، وہ سلطان جس نے عباسیوں کے زوال پر مسلمانوں کو نیا عروج بخشا مردہ قوم کے جسم میں نئی روح پھونک دی اور ایک ایسی سلطنت کی مضبوط بنیادیں رکھیں جو بعد میں موجودہ ترکی سے لے کر افغانستان اور وسط ایشیا سے لے کر عمان تک پھیل گئی اسکی سرحدیں دریائے ڈینوب سے لے کر دریائے سندھ تک پھیلی تھیںدسویں صدی عیسوی کے آغاز میں ارغوز ترکوں کا ایک قبیلہ کیانک (قنق ) سنٹرل ایشیاء سے ہجرت کر کے موجودہ قازقستان کے علاقے میں آباد ہوا ۔ اس قبیلے کا سردار سلجوق بن تیمور یا لگ تھا ۔
985ء میں سلجوق نے اسلام قبول کیا وہ پہلا ترک تھا جس نے اسلام قبول کیا وہ ایک کرشماتی شخصیت کا مالک تھا ترکوں کے بکھرے ہوئے قبیلے اس کے گرد اکٹھے ہونے لگےاور بہت جلد اس نے موجودہ قازقستان کے علاقے میں ایک چھوٹی سی ریاست قائم کر لی جو آنے والے سالوں میں عظیم الشان سلجوق سلطنت کی بنیاد بنی ۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ مولانا مودودی رحمتہ علیہ نے تاریخ کے موضوع پر بھی طبع آزمائی کی ہے۔
انہوں نے ۱۹۲۹ء میں سلجوقوں کی تاریخ پر ایک انتہائی شاندار کتاب لکھی تھی ۔ جس کا نام”سلاجقہ”ہے۔اس کتاب میں مولانا نے مستند حوالوں سے سلجوقوں کے عروج وزوال پر بڑی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ مولانا نے ابن تاثیر کی کتاب تاریخ الکامل کے حوالے سے لکھا ہے کہسلجوق کے پانچ بیٹے تھے ۔ بڑے بیٹے میکائیل سے اسے بہت پیار تھا طغرل بیگ 990ء میں میکائیل کے ہاں پیدا ہوا۔ میکائیل نوجوانی ہی میں گھوڑے سے گر کر مر گیا ۔۔ اس کی موت کے بعد سلجوق نے میکائیل کے دونوں بیٹوں چغری بیگ داؤد اور طغرل بیگ کو اپنی سر پرستی میں لے لیا اور ان کی تعلیم و تربیت میں خاص طور پر دلچسپی لی ۔ قنق قبیلہ اب سلجوق قبیلہ کہلاتا تھا ۔ ۱۰۰۹ء میں سلجوق بیگ کے انتقال کے بعد اس کا دوسرا بیٹا ارسلان اسرائیل سلجوق قبیلے کا سردار بن گیا۔ اس وقت غزنوی سلطنت دنیا کی سب سے بڑی اور مضبوط ترین سلطنت تھی ۔
اور تقریباً سارا سنڑل ایشیاء اور ماورالنہر ان کے زیر تسلط تھا۔ ارسلان کے دور میں سلجوق قبیلے نے بہت طاقت پکڑ لی۔ اور وہ سنٹرل ایشاء میں غزنوی سلطنت کا سب سے بڑا حریف بن کر ابھرا۔ ۱۰۲۵ء میں جب محمود غزنوی نے بخارا پر حملہ کیا تو ارسلان اور سلجوق قبیلے نے امیر بخارا کا ساتھ دیا ۔ محمود غزنوی فتح یاب ہوا ۔ ارسلان اپنے بیٹے قتلمش سمیت گرفتار ہوا۔ ابوالفضل بیہقی جو گیارہویں صدی عیسوی کا مشہور تاریخ دان گذرا ہے اور محمود غزنوی کے بیٹے مسعود غزنوی کے مصباحین میں شامل تھا اس نے “تاریخ بیہقی “کے نام سے غزنوی خاندان اور سلجوقوں کے ظہور کی تاریخ لکھی ہے جو آنکھوں دیکھے حالات پر مشتمل ہے ۔ یہ کتاب فارسی میں ہے ۔
اس کی تیس جلدوں میں سے صرف پانچ جلدیں آج کل میسر ہیں اس نے ارسلان اسرائیل کی گرفتاری کے بارے میں چشم دید گواہوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ محمود غزنوی سلجوقیوں کی ابھرتی ہوئی طاقت سے بہت فکرمند تھا۔ اس نے ان کی طاقت کا صحیح اندازہ لگانے کے لئے ارسلان کو صلح کا پیغام بھیجا اور ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ ارسلان اپنے بیٹے قتلمش اور دیگر سلجوقی سرداروں کے ساتھ محمود غزنوی سے ملنے آیا۔ محمود نے اس کی بڑی آؤبھگت کی اور بہت عزت کے ساتھ پیش آیا۔ اور انہیں انعام و اکرام اور شاہی خلعت سے نوازا۔ ایک دن اس نے ارسلان سے درخواست کی کہ اسے ہندوستان کی مہم کے لئے اس کی فوجی مدد درکار ہے۔ ارسلان نے اسے اپنا تیر دیتے ہوئے کہا۔ کہ جب بھی اسے سلجوقیوں کی مدد درکار ہو وہ یہ تیر کسی کے ہاتھ بھجوا دے تو ایک لاکھ سلجوقی فوجی اسکی مدد کو پہنچ جائیں گے ۔ محمود نے کہا اگر ایک لاکھ فوجی کافی نہ ہوئے ؟ارسلان نے دوسرا تیر دے کر کہا کہ اگر آپ ان دونوں تیروں کو بغان کوہ بھیجیں گے تو پچاس ہزار فوجی اور آجائیں گے ۔
محمود نے کہا اگر وہ بھی کافی نہ ہوئے ؟تو اس پر ارسلان نے اپنی کمان بھی اسے دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ یہ کمان بھی بھیجیں گے تو دو لاکھ سلجوقی فوج آپ کی مدد کے لئے حاضر ہوجائے گی ۔ اس گفتگو سے محمود غزنوی کو سلجوقوں کی اصل طاقت کا اندازہ ہوگیا۔ اور اسے محسوس ہوا کہ اگر ان کا سدباب نہ کیا گیا تو آنے والے وقت میں سلجوق غزنوی سلطنت کے لئے بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں چنانچہ اس نے ایک دن ارسلان اور اس کے سالاروں کو گرفتار کر کے کالنجر کے قلعے میں قید کر دیا ۔حمد اللّٰہ بن ابی بکر مستوفی کی کتاب تاریخ گزیدہ اور ابوبکر نجم الدین محمد بن الراوندی کی کتاب راحتہ الصدور میں بھی یہ واقعہ تفصیل سے درج ہے۔ ابن تاثیر نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ یہ قلعہ ملتان کے قریب واقع تھا۔
مولانا مودودی نے بھی اپنی کتاب “ سلاجقہ “ میں اس واقعے کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے علی عزالدین بن الاثیر الجزری (دسویں صدی عیسوی کا بڑا مشہور عرب تاریخ دان )کے حوالے سے تحریر کیاہے کہارسلان کی غیرموجودگی میں سلجوق قبیلے کی قیادت طغرل بیگ کے ہاتھوں میں آگئی۔ ۱۰۳۲ء میں ارسلان کا دوران اسیری ہی کالنجر قلعے میں انتقال ہوگیا۔ چند سال بعد اس کا بیٹا قتلمش کسی نہ کسی طرح وہاں سے فرار ہو کر جنڈ پہنچ گیا ۔ اس دوران محمود غزنوی کا انتقال ہو چکا تھا۔ اور اس کا بیٹا مسعود اوّل غزنوی سلطنت کا حکمران بن چکا تھا ۔ قتلمش نے اپنے چچازاد بھائی طغرل بیگ کے ساتھ مل کر سلجوق سلطنت کے قیام میں بڑااہم کردار ادا کیا۔
رکن الدین طغرل بیگ نے وسطایشیاکے ترک جنگجو قبائل کو اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ اور اس کی طاقت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھنے لگی ۔ سلجوقوں اور غزنی سلطنت میں مخاصمت محمود غزنوی کی وفات کے بعد زور پکڑ گئی ۔ مسعود غزنوی سلجوقوں کے بڑھتے اثر و رسوخ سے سخت خائف تھا اور اس سے نمٹنے کے لئے اپنی ساری طاقت کے ساتھ سلجوق سلطنت کی طرف بڑھا ۔ لیکن 1040 ء میں طغرل بیگ نے داندانقان کی جنگ میں غزنوی حکمران مسعود اوّل کو فیصلہ کن شکست دے کر پورے خراسان (موجودہ ایران افغانستان ازبکستان ترکمانستان قازقستان پاکستان ) پر قبضہ کرلیا۔
مسعود غزنوی شکست کے بعد میدان جنگ سے بھاگا اور موجودہ مردان کے نزدیک مارا گیا مسعود غزنی کی اس تاریخ ساز شکست کے بعد سلجوق سنٹرل ایشاء کے مالک بن گئے اور طغرل بیگ سلجوق سلطنت کا پہلا حکمران بن گیا ۔ اور یوں ایک خانہ بدوش بے خانماں قوم جو ترکستان اور سنڑل ایشاء کے مختلف ملکوں میں سوراندہ و ارزاں سو در ماندہ ماری ماری پھرتی تھی۔ نصف صدی سے بھی کم عرصے میں دنیا کی سب سے بڑی مضبوط اور متمدن سلطنت کو شکست دے کر سنڑل ایشاء کی مالک بن گئی ۔ سلجوق بیگ نے جلد ہی ایران ، عراق ، آزربائیجان ، خوارزم ، آرمینیا ، جارجیا، کردستان ، مشرق وسطی کے بیشتر علاقے فتح کر کے ایک عظیم الشان سلطنت قائم کر دی ۔
طغرل بیگ غیر معمولی قابلیت اورحیرت انگیز شخصیت کا مالک انسان تھا جس نے یہ کارنامہ صرف تئیس سال میں سرانجام دیا ۔ ایک بدوی الاصل ترک کا صحرا کے ایک معمولی خانہ بدوش سردار قبیلہ سے صرف ربع صدی میں اتنی بڑی سلطنت کا مالک بن جانا دراصل اسکی سیاست و تدبیر ، جرآت وبصالت ، معاملہ فہمی ، دانش و دانائی اور اعلی درجہ کی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے ممکن ہوا تھا۔ 1055ء میں اس نے بغداد کا رخ کیا اور عباسی خلیفہ آلقائم کی درخواست پر بغداد کو آل بویہ سے نجات دلائی اور عباسی خلافت کو دوبارہ بحال کر کے خلافت عباسیہ کو ایک نئی زندگی دی ۔
عباسیوں کا اس وقت یہ حال تھا کہ بغداد تک میں خطبۂ جمعہ میں عباسی خلیفہ کا نام نہیں لیا جاتا تھا۔ لیکن طغرل نے ان کی روحانی حیثیت کو بحال کیا حالانکہ وہ چاہتا تو عباسیوں کی بچی کچھی حیثیت کا بھی خاتمہ کر سکتا تھا۔ اس نے اپنی سلطنت کو قانونی اور مذہبی حثیت دلوانے کے لئے خلیفہ بغداد سے رشتہ داری قائم کی، اور اپنی بھتیجی اور چغری بیگ داؤد کی بیٹی ارسلان خاتون کی خلیفہ القائم سے کروائی اور بعد ازاں خود بھی خلیفہ کی بیٹی سےشادی کر لی اس طرح اس نے دونوں خاندانوں کے تعلقات کو مضبوط کیا۔ سلجوق بیگ نے اپنی سلطنت کو تین خودمختار ریاستوں میں تقسیم کیا ۔ ایران ، عراق ، کردستان ، مشرق وسطی ، آرمینا ، جارجیا کا علاقہ طغرل بیگ نے اپنے پاس رکھا۔ جس کا دارلحکومت نیشاپور تھا۔ جبکہ سنٹرل ایشاء اور ماورالنہر کا علاقہ اپنے بھائی چغری بیگ داؤد اور دریائے جیحوں کے پار کا علاقہ اپنے چچا موسیٰ بیغو کو دے دیا۔ جنہوں نے اسے یہ عظیم الشان سلطنت قائم کرنے میں مدد دی تھی ۔ چغری بیگ کی ریاست کا دارلحکومت رے تھا جبکہ موسیٰ بیغو کا دارالسطنت ہرات ( موجودہ افغانستان ) تھا۔
۱۰۵۰ء میں چغری بیگ کے انتقال کے بعد اس کا بیٹا الپ ارسلان رے کے تخت پربیٹھا۔بعد ازاں یہ طغرل بیگ کی بنائی ہوئی سلجوقی سلطنت ہی تھی جس نے مسلم دنیا کے بڑے علاقے کو متحد کیے رکھا اور اس کی زندگی کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ اس نے خانہ بدوش قبائل کے ذریعے اس دور کی بڑی قوتوں کو چیلنج کیا اور پھر اپنے وقت کی سب سے متمدن اور تہذیب یافتہ ریاست قائم کی جس سے ایک نئی تہذیب نے جنم لیا جسےTurk- Persian تہذیب کہتے ہیں . طغرل 1063ء میں آج ہی کے دن4 ستمبر کو موجودہ ایران کے شہر رے ( تہران )میں تہتر سال کی عمر میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ اس نے 1037ء سے لےکر 1063ء تک تئیس سال حکومت کی طغرل کا دارلحکومت نیشاپور تھا جو موجودہ ایران میں شامل ہے کیونکہ طغرل کی کوئی اولاد نہ تھی ۔ اس لیے اس کے بعد مشہور سلجوقی سلطان الپ ارسلان نے تخت سنبھالا جو چغری کا بیٹا اور طغرل کا بھتیجا تھا۔
الپ ارسلان کے دور میں سلجوقی سلطنت اپنے عروج کو پہنچی اور دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین سلطن بن کر ابھری ۔ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ طغرل نے اس سلطنت کی مضبوط بنیادیں رکھیں جس نے امت مسلمہ کی تسبیح کے بکھرے ہوئے دانوں کو ایک لڑی میں پرو دیا اور جب 1071ء میں طغرل کے بھتیجےالپ ارسلان نے منزکرت کی جنگ میں قیصر روم رامانوئس چہارم کو فیصلہ کن شکست دی تو پورے اناطولیہ کے دروازے ترک مسلمانوں کے لئے کھل گئے اور یہ فتح سلطنت عثمانیہ کا پیش خیمہ بنی یہ جنگ دنیا کی چند بڑی تاریخ ساز جنگوں میں شمار ہوتی ہے جس نے اس خطے کے خدوخال تبدیل کر کے رکھ دئیے یہ جنگ سلطنت روم کے زوال کی پہلی نشانی کے طور پر یاد رکھی جاتی ہے اور خشکی کی طرف سے قسطنطنیہ کی طرف مسلمانوں کا پہلا قدم بھی تصور ہوتی ہے اس سے پہلے قسطنطنیہ کو فتح کرنے کی تمام کوششیں سمندر کی جانب سے کی گئیں اسی جنگ کے نتیجے میں آنے والی چند دہائیوں میں پورا عیسائی اناطولیہ مسلم ترکی بن گیا ۔ یہ وہ دور تھا جب عربوں اور عباسیوں کے عروج کا سورج غروب ہو چکا تھا اور اللہ نے عالم اسلام کی حفاظت کے لئے ترکوں کو چن لیا تھا۔ اور یوں مسلم دنیا کی سیاست و قیادت عربوں کے ہاتھ سے نکل کر ہمیشہ کے لئے ترکوں کے ہاتھوں میں چلی گئی۔

