Turkiya-Logo-top

ترکیہ میں چند روز (قسط نمبر 1)تحریر : اسلم بھٹی

ترکیہ ایک خوبصورت ملک ہے اور دنیا کے ان چند سر فہرست ممالک میں شامل ہے جہاں سارا سال سیاح آتے رہتے ہیں۔ ہر سال کروڑوں سیاح دنیا بھر سے ترکیہ کا رخ کرتے ہیں ۔موسم جو بھی ہو لوگ یہاں کھینچے چلے آتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ترکیہ میں سیاحت کو صنعت اور انڈسٹری کا درجہ حاصل ہے۔ اس کے ساتھ حکومتی پالیسی اور ترجیحات شامل ہیں۔ رواں سال سے اب تک تقریباً اڑھائی کروڑ سیاح دنیا بھر سے ترکیہ کی سیر کر چکے ہیں۔ وزارت سیاحت نے سال کے آخر تک چھ کروڑ سے زائد سیاحوں کا اندازہ لگا رکھا ہے ۔ ظاہر ہے اس سے اچھا خاصا ذر مبادلہ بھی ملک میں آتا ہے۔ وزارت سیاحت کا اندازہ ہے کہ سال کے آخر تک اس شعبے سے 64 بلین ڈالرز کا زرمبادلہ ملک میں آئے گا۔ گزشتہ دنوں 10 روز کے لیے ترکیہ جانے کا اتفاق ہوا ۔ اگرچہ میرا یہ ترکیہ کا پہلا دورہ نہیں تھا اور تقریباً چھٹا دورہ تھا لیکن ایسے لگ رہا تھا جیسے پہلی دفعہ ترکیہ جا رہا ہوں۔کافی عرصے سے دوبارہ ترکیہ جانے کا پروگرام بن رہا تھا لیکن مختلف مصروفیات اور وجوہات آڑے آنے کی وجہ سے نہ جا سکا۔ تاہم اس سال جب گرمیوں کی تعطیلات شروع ہوئیں تو ایک دفعہ دوبارہ جانے کا ارادہ کیا ۔ ترکیہ جانے کے لیے ویزہ کی ضرورت ہوتی ہے اور ویزہ کے لیے مختلف کاغذات اور ڈاکومنٹس چاہیے ہوتے ہیں۔ لہذا وہ ڈاکومنٹس تیار کرنے کی کوششوں میں لگ گئے ۔ چند ہی دنوں میں سارے کاغذات تیار ہو گئے ۔ یہ کاغذات اناطولیہ ایجنسی میں جمع کروائے اور ویزے کے لیے اپلائی کر دیا۔ چونکہ میں پہلے بھی کئی دفعہ ترکیہ جا چکا تھا اس لیے ملٹی پل ویزے کے لیے اپلائی کر سکتا تھا۔ لہذا میں نے ایک سال کے ملٹی پل ویزے کے لیے اپلائی کر دیا ۔چند ہی دنوں میں ایک سال کا ملٹی پل ویزہ لگ کر آگیا ۔اب جانے کی تیاریاں ہونے لگیں ۔ ترکش ایئر لائن روزانہ لاہور سے استنبول جاتی ہے اور تقریباً ساڑھے چار پانچ گھنٹے میں لاہور سے استنبول پہنچ جاتی ہے۔ یہ واحد ایئر لائن ہے جو براہ راست لاہور سے استنبول کا سفر کرتی ہے۔ لہذا میں نے ترکش ایئر لائن کا انتخاب کیا ۔اب ضروری ساز و سامان اور تحائف اکٹھے کرنے شروع کر دیے ۔ لاہور سے خلیفہ کی ختائیاں خریدیں ۔ چونکہ آموں کا موسم تھا لہذا دو پیٹیاں آموں کی تیار کیں۔ ایئر لائن کی طرف سے 30 کلو وزن کی اجازت تھی۔ اس کے ساتھ 7 کلو ہینڈ کیری لے جایا جا سکتا تھا . ایئر لائن کے عملے کے تعاون سے یہ مراحل بھی بخوبی طے ہو گئے اور وہ دن آ پہنچا جب میں نے ترکیہ روانہ ہونا تھا۔ میری صبح 5 بج کر 40 منٹ پر پرواز تھی۔ میں وقت سے پہلے ہی ایئرپورٹ پہنچ گیا اور ضروری کاروائی کے بعد جہاز میں سوار ہو گیا۔ میری سیٹ کھڑکی کے ساتھ تھی جس سے میں باہر کا نظارہ کر سکتا تھا۔ یہ ایک بڑا جہاز تھا جو انتہائی آرام دہ اور جدید تھا۔ترکش ایئر لائن کا شمار دنیا کی بہترین ایئر لائنز میں ہوتا ہے جو دنیا بھر سے مسافروں کو اپنی اپنی منزل پر بر وقت پہنچاتی ہے ۔ یہ یورپ کی بہترین ایئر لائن کا درجہ رکھتی ہے اور یہ دنیا کے 360 ایئرپورٹس سے کروڑوں مسافروں کو ان کی منزل مقصود پر بخیر و عافیت اور جدید سہولیات کے ساتھ پہنچاتی ہے۔لاہور سے استنبول کا سفر انتہائی پرسکون اور یادگار تھا۔ تقریباً ساڑھے چار گھنٹوں میں ہمارا جہاز استنبول ایئر پورٹ پر اترا۔ ایئرپورٹ میں داخل ہوا تو یہاں کا منظر ہی کچھ اور تھا۔ استنبول ایئرپورٹ دنیا کے چند بڑے ایئرپورٹس میں سے ایک ہے ۔ بلکہ یہ یورپ کا سب سے بڑا اور مصروف ترین ایئرپورٹ ہے ۔ یہ تمام جدید سہولیات سے آراستہ ہے ۔ضروری کارروائی کے بعد ایئرپورٹ سے نکل کر سیدھا حضرت ابو ایوب انصاری رحمتہ اللّہ علیہ جو صحابی رسول اور میزبان رسول ہیں ، کے مزار پر حاضری دی اور فاتحہ پڑھی۔ ناشتہ بھی وہیں کیا ۔ اس کے بعد استنبول کے فاتح سلطان محمد فاتح کے مزار کا رخ کیا۔ سلطان محمد فاتح کے مزار پر حاضری دی اور ملحقہ مسجد کی زیارت کی۔ سلطان محمد فاتح نے استنبول کو 29 مئی 1453ء میں فتح کیا ۔ سلطان محمد فاتح کا مزار ایک کمپلیکس میں واقع ہے۔ مزار کے ساتھ ہی کتب خانہ اور مسجد ہے یہ ایک وسیع و عریض کمپلیکس ہے اور بڑے خوبصورت انداز میں تعمیر کیا گیا ہے جس میں عثمانی طرز تعمیر نمایاں ہے۔(جاری ہے)

Read Previous

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کی حماس وفد سے اہم ملاقات، اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت

Read Next

ایران کی سی پیک میں شمولیت کی خواہش، شاہراہ ریشم سے یورپ تک توسیع کا امکان

Leave a Reply