استنبول —ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے حماس کی شوریٰ کونسل کے سربراہ محمد اسماعیل درویش کی قیادت میں آئے ہوئے اعلیٰ سطحی وفد سے استنبول میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، انسانی بحران، جنگ بندی کی کوششوں، اور فلسطینیوں کی جبری بے دخلی جیسے اہم معاملات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔ترک وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق، وزیر خارجہ فیدان نے اسرائیل کے ان اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جن کے تحت فلسطینیوں کو زبردستی غزہ سے نکالا جا رہا ہے اور مغربی کنارے کو غیر قانونی طور پر اسرائیلی ریاست میں ضم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسیاں نہ صرف ناقابل قبول ہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہیں۔حماس وفد نے ترک وزیر خارجہ کو غزہ میں انسانی بحران کی شدت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ بنیادی ضروریات جیسے خوراک، ادویات اور صاف پانی کی شدید قلت ہے، جبکہ اسرائیلی بمباری کی شدت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وفد نے یہ بھی واضح کی کہ اسرائیل جنگ بندی مذاکرات میں سخت گیر رویہ اپنائے ہوئے ہے اور دراصل کسی معاہدے میں دلچسپی نہیں رکھتا۔اس موقع پر وزیر خارجہ فیدان نے اسرائیل کے طرز عمل کو نسل کشی کی پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے معصوم عوام کو دانستہ بھوکا رکھا جا رہا ہے تاکہ ان کی مزاحمت کو کمزور کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نہ صرف امن عمل کو سبوتاژ کر رہا ہے بلکہ بے دخلی کی منصوبہ بند حکمت عملی کے ذریعے فلسطینیوں کی شناخت اور سرزمین کو بھی مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔حاقان فیدان نے ایک بار پھر ترکیہ کی جانب سے فلسطینی کاز کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ ہر فورم پر فلسطینیوں کے حقوق کی آواز بلند کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کیے جانے کا سلسلہ تیز ہو چکا ہے، جس سے اسرائیل بین الاقوامی سطح پر مزید تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل نے 7 اکتوبر 2023 سے غزہ پر مسلسل بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 60 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بڑی تعداد میں شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث انسانی بحران اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔
