انقرہ —ترک صدر رجب طیب ایردوان نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ ترکیہ یورپی یونین کی مکمل رکنیت کے لیے ہر اعتبار سے تیار ہے اور اب یورپی یونین کو چاہیے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل کرے۔ صدر ایردوان نے یہ بیان انقرہ میں ایک اعلیٰ سطحی سفارتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دیا۔صدر ایردوان نے کہا:”ترکیہ نے جمہوری، قانونی اور اقتصادی میدانوں میں جو اصلاحات کی ہیں، وہ یورپی یونین کے معیار پر پورا اترتی ہیں۔ اب تاخیر کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔”انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ترکیہ نے جمہوریت، انسانی حقوق، آزاد عدلیہ، معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے بے مثال اقدامات کیے ہیں، اور اب یورپی یونین کی جانب سے تاخیری حربے ترکیہ کے عوام کے اعتماد کو مجروح کر رہے ہیں۔ترک صدر نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ یورپی سلامتی، توانائی تحفظ اور مشرقی یورپ میں توازن کے لیے ایک ناگزیر پارٹنر ہے، اور اس کے بغیر یورپی یونین کا جغرافیائی اور اسٹریٹجک وژن مکمل نہیں ہو سکتا۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ بیان ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب یورپی یونین کے کچھ حلقے ترکیہ کی رکنیت کے حوالے سے نئے مذاکراتی فریم ورک پر غور کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ ترکیہ 1987 میں یورپی اقتصادی کمیونٹی میں رکنیت کے لیے درخواست دے چکا ہے، اور 2005 میں باقاعدہ مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، تاہم کئی سیاسی، انسانی حقوق اور علاقائی وجوہات کی بنا پر یہ عمل مسلسل تاخیر کا شکار رہا ہے۔
