Turkiya-Logo-top

دلائی لاما کی جانشینی: بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کا نیا محاذ

"دلائی لاما کی جانشینی۔۔۔ بظاہر ایک مذہبی روایت، لیکن اب یہ ایشیا کی دو بڑی طاقتوں، بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کا ایک نیا اور خطرناک سیاسی محاذ بن چکا ہے۔ آج ہم اسی حساس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔۔۔ اور جانیں گے کہ یہ مسئلہ کیوں صرف روحانی قیادت تک محدود نہیں رہا، بلکہ خطے کی جیو پولیٹکس کا اہم حصہ بن چکا ہے۔”

روحانی روایت سے سیاسی تنازع تک

"دلائی لاما کی جانشینی، صدیوں پرانی تبتی بدھ مت کی روایت ہے، لیکن آج کے دور میں یہ مسئلہ مذہبی عقیدے سے زیادہ سیاسی اسٹریٹیجی بن چکا ہے۔ چین اور بھارت دونوں اسے اپنے قومی مفادات اور علاقائی بالادستی سے جوڑ چکے ہیں۔”

دلائی لاما کا متنازع اعلان

"موجودہ، یعنی چودھویں دلائی لاما نے کچھ عرصہ قبل واضح اعلان کیا کہ ان کے جانشین کا انتخاب تبتی حکومتِ جلاوطن کا گادین پودرنگ ٹرسٹ کرے گا۔ اور اس میں کسی اور کو مداخلت کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ان کا اگلا جنم بھارت میں ہو سکتا ہے۔ یعنی اگلا دلائی لاما بھارتی سرزمین پر پیدا ہو سکتا ہے۔”

بھارت کا کھلا اسٹریٹیجک فائدہ

"مودی حکومت نے دلائی لاما کے بیان کی بھرپور حمایت کی ہے۔ کیونکہ بھارت سمجھتا ہے کہ اگر اگلا دلائی لاما بھارت میں پیدا ہوا، تو تبت پر اس کا اثر و رسوخ بڑھے گا۔۔۔ سرحدی تنازعات میں اسے نفسیاتی برتری حاصل ہو گی، اور اروناچل پردیش میں اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔”

چین کا سخت ردعمل

"چین نے اس بیان کو کھلی اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ بیجنگ کا موقف ہے کہ دلائی لاما کا انتخاب صرف صدیوں پرانی روایت کے مطابق ہوگا۔۔۔ اور یہ عمل چین کی نگرانی میں ‘گولڈن ارن’ نامی روایت کے تحت انجام دیا جائے گا۔ چین کسی اور ذریعے سے منتخب دلائی لاما کو غیر قانونی اور غیر آئینی سمجھتا ہے۔”

یہ مسئلہ صرف مذہبی نہیں، مکمل سیاسی ہے

"دلائی لاما کی جانشینی کا تنازع اب صرف ایک روحانی پیشوا کے انتخاب کا نہیں رہا۔ یہ معاملہ تبت کی آزادی کی تحریک، بھارت اور چین کے تعلقات، اور پورے خطے کی جغرافیائی سیاست سے جڑ چکا ہے۔”

تبت: بفر زون اور اسٹریٹیجک بالادستی کا مرکز

"تبت، بھارت اور چین کے درمیان ایک بفر زون ہے۔۔۔ اس کے روحانی پیشوا پر کنٹرول کا مطلب اس خطے میں اسٹریٹیجک برتری ہے۔ چین کے لیے دلائی لاما کی جانشینی اس کی ‘ون چائنا’ پالیسی کا اہم حصہ ہے۔ جبکہ بھارت اسے اپنے اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع سمجھتا ہے۔”

1959 کا خفیہ آپریشن

"یاد رہے، موجودہ دلائی لاما کو 1959 میں ایک خفیہ آپریشن کے تحت بھارتی حکومت اور امریکی سی آئی اے نے تبت سے نکال کر بھارت پہنچایا تھا۔ اس کے بعد بھارت میں تبت کی جلاوطن حکومت قائم کی گئی، جو آج بھی موجود ہے۔ یہی حکومت تبت کی آزادی کی جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔”

تاریخی پس منظر: بھارت اور چین کی پرانی کشیدگی

"بھارت اس جلاوطن حکومت کو ماضی میں چین کے خلاف استعمال کرتا رہا ہے۔۔۔ تبت کے نوجوانوں کو تربیت دی گئی، ہتھیار فراہم کیے گئے۔۔۔ جس پر چین نے ہمیشہ شدید اعتراض کیا ہے۔ آج کی صورتحال اسی پرانے تناظر کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔”

نئی کشیدگی، نیا جغرافیائی محاذ

"دلائی لاما کی جانشینی کا یہ تنازعہ خطے کی موجودہ کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔۔۔ یہ صرف ایک مذہبی یا روحانی لیڈر کا انتخاب نہیں، بلکہ پورے خطے کی سلامتی، استحکام اور جیو پولیٹیکل حرکیات کو متاثر کرنے والا معاملہ ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ بحران بھارت اور چین کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر سکتا ہے۔”

Read Previous

ای سی او اجلاس میں خطے کی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور اقتصادی تعاون پر اتفاق، صدر ایردوان کی اہم ملاقاتیں، خانکندی میں تاریخی چہل قدمی

Read Next

پانچ سو برس سے روتی ہوئی مسجد

Leave a Reply