turky-urdu-logo

ترکیہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعاون بڑھانےکے لیے ہر ممکن کوشش جاری ہے، ترک قونصل جنرل

ترک قونصل جنرل درمش باش طوع نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کا دورہ کیاجس دوران پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعاون کو فروغ دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

اس موقع پر باہمی تعاون بڑھانے کے لیے تجارت، سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی، سیاحت اور زراعت جیسے اہم شعبوں پر بات چیت کی گئی، جب کہ تجارتی وفود کے باقاعدہ تبادلے پر بھی زور دیا گیا۔

ترک کمرشل اتاشی نورالتین ، ترکش ائیرلائنز کے جی ایم عمر اوندر بھی قونصل جنرل کے ہمراہ تھے۔

اس موقع پر لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر ابوذر شاد نے نائب صدر شاید نذیر چودھری،   پاکستان ترکیہ بزنس کمیٹی کے کنوینئر ملک جہانگیر اور دیگر عہدیداروں کے ہمراہ ترک وفد  کا پرتپاک استقبال کیا۔

درمش باش طوع نے کہا کہ، ترکیہ کی کئی بڑی کمپنیاں پہلے ہی پاکستان میں کامیابی سے کام کر رہی ہیں جو پاکستانی مارکیٹ پر ترک سرمایہ کاروں کے اعتماد کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کاروباری تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور پاکستان کے ساتھ مزید مشترکہ منصوبے شروع کرنے میں ترکیہ کی دلچسپی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ، ترکیہ اورپاکستان کے تعلقات بھائی چارے اور باہمی احترام پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور تعاون کے رشتے کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ہر ممکن کوششیں جاری ہیں۔

ایل سی سی آئی کے نائب صدر شاہد نذیر چوہدری نے کہا کہ، پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات صرف سفارتی نہیں، بلکہ تاریخی اور ثقافتی بنیادوں پر قائم ہیں، اور دونوں نے ہمیشہ خوشی اور آزمائش کے لمحات میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ، اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہیں، لیکن تجارتی حجم اب بھی محدود ہے۔مالی سال 2023–24 میں پاکستان کی ترکیہ کو برآمدات 337 ملین ڈالر تھیں جب کہ درآمدات 491 ملین ڈالر رہیں، یوں مجموعی تجارتی حجم تقریبا828 ملین ڈالر رہا۔

انہوں نے زور دیا کہ، تجارتی امکانات سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور مئی 2023 میں نافذ ہونے والے تجارتی معاہدے سے مکمل استفادہ حاصل کرنے کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں۔ باہمی تعاون کے ذریعے اس تجارتی حجم کو آئندہ برسوں میں کم از کم 5 ارب ڈالر تک بڑھایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر ٹیکسٹائل، تعمیرات، خوراک کی صنعت، ادویات سازی، توانائی، سیاحت، کھیلوں کے سامان اور خاص طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں تجارت بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

نائب صدر ایل سی سی آئی نے دونوں ممالک کے تجارتی اداروں کے کردار کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ، لاہور چیمبر مشترکہ منصوبوں کے فروغ، تجارتی وفود کی میزبانی، بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت اور پاک-ترکیہ بزنس فورمز کے انعقاد میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ، لاہور میں ترک قونصل خانہ ترک سرمایہ کاروں اور پاکستانی کاروباری برادری کے درمیان ایک مؤثر رابطہ کار ثابت ہو سکتا ہے، خاص طور پر لاہور جیسے متحرک شہر میں، جو پنجاب کا ثقافتی، صنعتی اور اقتصادی مرکز ہے۔

Read Previous

26 جون؛ آذربائیجان کا یومِ مسلح افواج

Read Next

مسلم اقوام میں قیادت کی دوڑ؛ کیا پاکستان اور سعودی عرب واپس آ رہے ہیں؟

Leave a Reply