پاکستان میںآذربائیجان کے سفارتخانے نے جمعہ کے روز اپنی قومی آزادی کی 107ویں سالگرہ ایک سرکاری استقبالیہ تقریب کے ساتھ منائی، جس میں ملک کی تاریخی جدوجہد، خودمختاری کے عزم اور پاکستان کے ساتھ مضبوط دوطرفہ تعلقات کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آذربائیجان کے سفیر، خضر فرہادوف نے مہمانِ خصوصی پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم، علی پرویز ملک، معززین، سفارتکاروں، صحافیوں اور دیگر مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے 28 مئی 1918 کی اہمیت کو اجاگر کیا، جب جمہوریہ آذربائیجان کا قیام عمل میں آیا، جو مسلم مشرق کی پہلی سیکولر جمہوریہ تھی۔
انہوں نے کہاکہ، یہ دن صرف آزادی کی خوشی منانےکانہیں، بلکہ آذربائیجان کے عوام کے حوصلے، قربانی اور ترقی کی لگن کا بھی مظہر ہے۔
سفیر نے جمہوریہ کی مختصر مدت کی تاریخی کامیابیوں کا ذکر کیا، جس نے دو سال سے بھی کم عرصے میں جمہوری اداروں کی بنیاد رکھی، اپنی سرحدیں متعین کیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنی موجودگی کو تسلیم کروایا۔ انہوں نے کہا کہ، اگرچہ اس جمہوریہ کا دور مختصر تھا، مگر اس نے آذربائیجان کی قومی شناخت اور جمہوری روایات کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انہوں نے قومی رہنما حیدر علیوف اور صدر الہام علیوف کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ، 1991 میں آزادی کی بحالی کے بعد آذربائیجان نے مضبوط قیادت کی بدولت اپنی خودمختاری کو محفوظ رکھا، اور صدر علیوف اس ورثے کو کامیابی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
پاکستان سے قریبی تعلقات پر بات کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ، 1991 میں آزادی کے بعد پاکستان ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے آذربائیجان کو تسلیم کیا، اور 1992 میں باضابطہ سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔ انہوں نے خصوصا آرمینیا کے ساتھ سرحدی تنازعے کے دوران پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے ماحولیاتی سفارتکاری پر بھی روشنی ڈالی اور حالیہ بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس کا حوالہ دیا جس کی میزبانی آذربائیجان نے کی۔ انہوں نے کہاکہ،ہمیں خوشی ہے کہ، اس کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی وفد نے شرکت کی، جو ہمارے باہمی تعاون اور پائیدار ترقی کے عزم کا عکاس ہے۔
اس تقریب میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ترکیہ، پاکستان اور آذربائیجان کے برادرانہ تعلقات کو خطے میں امن کے قیام کیلئے اہم قرار دیا۔

تقریب کا اختتام امید کے اس پیغام کے ساتھ ہوا، جس میں آذربائیجان کی آزادی کے سفر اور پاکستان کے ساتھ دیرینہ دوستی کا جشن منایا گیا۔
