turky-urdu-logo

شاہی قلعہ لاہور میں اسلامک آرٹ فیسٹول کا افتتاح ، ترک رقص درویش کا شاندار مظاہرہ

لاہور کے تاریخی شاہی قلعے کے شاہی کچن میں اسلامک سنٹر فار آرٹ اینڈ کلچر اور ادارہ علم و فن کی جانب سے پانچ روزہ اسلامک آرٹ فیسٹیول کا آغاز ہوگیا۔

 افتتاحی تقریب لاہور کے تاریخی شاہی قلعے کے شاہی کچن میں منعقد ہوئی۔ تقریب میں ترک سفیر عرفان نذیر اوغلو سمیت متعدد ممالک کے وفود نے شرکت کی۔

تقریب میں ترک گروپ ‘تمام عالم مست’ کی جانب سے مشہور و معروف رقص درویش کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو نے کہا کہ اسلامی فنون اپنی مثال آپ ہیں ، یہ فنون تمام مسلم ممالک کو آپس میں جوڑتے ہیں۔

انہوں نے ترکیہ اردو سے خصوصی بات کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان ان شعبوں میں تعاون کے ذریعے دنیا بھر کے لیے مثال قائم کرسکتے ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان دونوں ایک بھرپور اسلامی تاریخ کے حامل ہیں۔ اس باب میں کئی منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔

او آئی سی کے آرٹ  سے متعلق ریسرچ سنٹر ایرسیکا کے ڈائریکٹر، ڈاکٹر محمود کلیچ نے خطاب کے دوران پاکستان میں اسلامی آرٹ فیسٹول کے انعقاد کو خوش آئند قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ، اسلامی فن کو اجاگر کرنا تنوع اور انسانیت کے اہم اجزا کو نمایاں کرنے کے مترادف ہے۔اس نمائش میں ہم سب کے لیے اسلامی فن سیکھنے کا موقع ہے۔ یہ پاکستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان روابط کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تقریب سےربیع القلوب فن پر  کام کرنے والے نصیر بلوچ نے خطاب میں قرآن پاک کی آیات پر مشتمل فن خطاطی پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامک آرٹ  کے ذریعے حقیقت تک نہ صرف رسائی ہوتی ہے بلکہ مسلم دنیا کے روابط بھی پروان چڑھتے ہیں۔

قطر سے سابق سفیر فہد بن محمد نے کہا کہ میں دنیا بھر میں جہاں جاتا ہوں، اسلامی فنون اور آرکیٹیکچر کی وجہ سے اپنائیت محسوس کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں میں بخارا گیا وہاں بھی وہی محسوس کیا جو اس وقت شاہی قلعے کے در ودیودار کے درمیان محسوس کررہا ہوں۔

ایوان علم و فن کے سربراہ عرفان قریشی نے ترکیہ اردو کو بتایا کہ وہ عالم اسلام کے مختلف شعبوں میں آرٹ کے حوالے سے ہونے والوں کاموں کا یکجا کر رہے ہیں اور اسلامی میوزیم بنانے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اسلامک آرٹ فیسٹیول لاہور کے مختلف مقامات پر 25 فروری تک جاری رہے گا، جن میں لاہور میوزیم، این سی اے اور پنجاب یونیورسٹی شامل ہیں۔

Read Previous

اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے بغیر پائیدار امن ممکن نہیں: حاقان فیدان

Read Next

صدر ایردوان نوویں بار آق پارٹی کے چیئرمین منتخب

Leave a Reply