نو منتخب سابق امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز حلف برداری تقریب کے بعد اپنے پہلے صدارتی خطاب میں اعلان کیا کہ، وہ کینیڈا اور میکسیکو پر 25 فیصد درآمدی محصولات عائد کر سکتے ہیں، جس کا نفاذ یکم فروری سے ممکن ہے۔
ٹرمپ نے حلف اٹھانے کے چند گھنٹوں بعد کینیڈا اور میکسیکو کو غیر قانونی امیگریشن اور منشیات کی اسمگلنگ روکنے میں ناکام قرار دیتے ہوئے ان دونوں اہم تجارتی شراکت داروں کو خبردار کیا۔
اوول آفس میں دستخطی تقریب کے دوران انہوں نے کہاکہ،ہم میکسیکو اور کینیڈا پر 25 فیصد ٹیکس لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں کیونکہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں اور فینٹنائل کو امریکا میں داخل ہونے دے رہے ہیں۔ کینیڈا بھی اس حوالے سے بڑا مجرم ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ، ان محصولات کا اطلاق یکم فروری سے ہو سکتا ہے۔
ٹرمپ نے گزشتہ روز ایک اور حکم نامے پر دستخط کیے جس کے تحت ایجنسیوں کو تجارتی خسارے، غیر منصفانہ تجارتی اقدامات اور کرنسی کی ہیرا پھیری کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی۔
انہوں نے امریکی تجارتی معاہدوں بشمول کینیڈا، میکسیکو اور چین کے معاہدوں کا جائزہ لینے کا بھی حکم دیا۔
ٹرمپ نے اپنی تقریر میں امریکی تجارتی نظام کی فوری تبدیلی کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ،ہم اپنے شہریوں پر ٹیکس لگا کر دیگر ممالک کو فائدہ پہنچانے کے بجائے، غیر ملکی ممالک پر محصولات عائد کریں گے، تاکہ اپنے شہریوں کو فائدہ ہو۔
اوول آفس میں گفتگو کے دوران ٹرمپ نے یورپی یونین پر بھی تجارتی عدم توازن کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ، وہ امریکی مصنوعات کی کافی درآمد نہیں کرتی۔
کچھ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ، محصولات میں اضافہ صارفین کے لیے مہنگائی اور معیشت پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے۔
ٹرمپ نے ایک نئے ادارے، ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی کے قیام کا بھی حکم دیا، جس کی سربراہی ایلون مسک کریں گے۔ یہ دفتر وفاقی اخراجات اور قواعد و ضوابط میں کمی کے لیے تجاویز پیش کرے گا۔ اس دفتر کو غیر رسمی طور پر ‘DOGE’کا نام دیا گیا ہے۔
