turky-urdu-logo

شام کے نئے رہنما، احمد الشراء کا دورہ ترکیہ متوقع

ایران کی مہر نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شام کے نئے رہنما احمد الشراء جلد ہی اپنا پہلا غیر ملکی دورہ ترکیہ کے لیے کریں گے۔ یہ دورہ ترکیہ کی جانب سے شام کے مخالف قوتوں کو دی جانے والی حمایت کے اعتراف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور اس موقع پر الشراء ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کا شکریہ بھی  ادا کریں گے۔

تاحال ترکیہ اور شام کی جانب سے اس متوقع دورے پر کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

رپورٹس کے مطابق، ترک خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم کالن اور وزیر خارجہ حاقان فیدان نے دمشق میں احمد الشراء سے ملاقات کی تھی، یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب الشراء کی قیادت میں ، حیات التحریر الشام (HTS) نے دارالحکومت کا کنٹرول سنبھال لیا اور بشار الاسد ملک چھوڑ کر ماسکو فرار ہو گئے۔

ترکیہ نے 2011 میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے بشار الاسد کے خلاف شامی اپوزیشن کی بھرپور حمایت کی تھی۔ اس کے بعد سے انقرہ نے شام میں استحکام اور ایک جامع حکومت کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کی قیادت کی ہے، تاکہ خطے میں امن بحال ہو اور ترکیہ سمیت پڑوسی ممالک متاثر نہ ہوں۔

صدر ایردوان نے شام کی نئی انتظامیہ کے ساتھ ریاستی ڈھانچے کی تشکیل اور آئین سازی میں تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔ شام میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بجلی کی ترسیل کے امکانات پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

ترکیہ نے احمد الشراء کی قیادت میں قائم نئی انتظامیہ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ، وہ شام میں دہشت گرد تنظیموں، خصوصا PKK اور اس کی شامی شاخ YPG کے خلاف مؤثر کارروائی کرے گی۔

الشراء نے بھی اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ، ان کی انتظامیہ شام کو دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے لیے بیس کے طور پر استعمال نہیں ہونے دے گی اور ملک کی وحدت برقرار رکھنے کے لیے کام کرے گی۔ واضح رہے کہ، PKK/YPG شمال مشرقی شام کے بڑے حصے پر قابض ہے اور اسے داعش کے خلاف جنگ کے بہانے امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔ PKK ترکیہ میں 40,000 سے زائد افراد کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ہے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، اور یہ شمالی عراق اور شام میں مضبوط ٹھکانے بنا کر ایک خودساختہ کرد ریاست بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔

احمد الشراء کے اس متوقع دورے سے امید کی جا رہی ہے کہ شام اور ترکی کے تعلقات میں ایک نیا باب کھلے گا اور خطے میں قیام امن کے لیے مشترکہ کوششوں کو مزید تقویت ملے گی۔

Read Previous

ترکیہ کا لاس اینجلس میں آتشزدگی کے متاثرین سے اظہار تعزیت

Read Next

ریاض میں ‘شام اجلاس’ کے دوران ترکیہ کے وزیر خارجہ کی اہم ملاقاتیں

Leave a Reply