انقرہ کے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ میں ‘اسلامی فکر رومی سے اقبال تک’ کے عنوان سے ایک خصوصی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب کا آغاز انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ کے صدر پروفیسر ڈاکٹر مہمت گورمیز اور پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید کی افتتاحی تقاریر سے ہوا۔
پینل ڈسکشن کے دوران مقررین نے مولانا رومی اور علامہ اقبال کی تعلیمات میں موجود حیرت انگیز مماثلتوں کو اجاگر کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ، رومی اور اقبال کی حکمت بھری تعلیمات آج بھی انسانیت کے لیے حق کی تلاش اور خودی کی پہچان کے سفر میں رہنمائی فراہم کر رہی ہیں۔”
دوران تقریب ڈاکٹر یوسف جنید نے رومی اور اقبال کے افکار پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، اگرچہ رومی اور اقبال کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہے، لیکن جب ہم ان کے کاموں کو ان کے اصل سیاق و سباق میں دیکھتے ہیں تو ان کی پیش کردہ روحانی اور فکری بصیرت میں کافی مماثلت ہے اور انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
تقریب میں شریک دیگر اہم مقررین میں انقرہ سوشل سائنسز یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر مہمت نسیم دورو، انقرہ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جلال تورر، استنبول یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر درمش بلغر، اور زکریا یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر اے بی اشرف شامل تھے۔
یہ تقریب علمی اور فکری حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل کر رہی ہے اور اسے دونوں ممالک کے مابین فکری تعلقات کو فروغ دینے کے ایک اہم اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
