ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے شام کی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ "امریکی وفد کا شام کی نئی انتظامیہ سے رابطہ انتہائی اہم ہے۔”اُنہوں نے مزید کہا کہ ” اس سے قبل یورپی یونین کا وفد بھی شام کی نئی انتظامیہ سے رابطہ کر چکا ہے۔”
حاقان فیدان نے ایک انٹرویو میں کہا،
"ہم نے حیات تحریر الشام کو اقوام متحدہ کی فہرست کے مطابق دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہوا ہے، لیکن عملی طور پر وہ گزشتہ دس سالوں میں کسی دہشت گردی کی سرگرمی میں ملوث نہیں پائی گئی۔” اُنہوں نے بتایا کہ حیات التحریرالشام نے دہشت گرد تنظیموں خاص طور پر داعش کے خلاف انٹیلی جنس شئیر میں ترکیہ کی کافی مدد کی ہے۔”
شام میں مہاجرین کی واپسی
فیدان نے کہا کہ ترکی شام میں ایسا ماحول بنانے کی کوشش کر رہا ہے جہاں مہاجرین محفوظ اور رضاکارانہ طور پر واپس جا سکیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مہاجرین کی واپسی زبردستی نہیں کی جائے گی۔
پی کے کے اور وائی پی جی کے خلاف مؤقف
فیدان نے شام میں پی کے کے اور وائی پی جی کو مصنوعی دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ گروپ ترکیہ، عراق، شام اور یورپ کے افراد پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا،
"یہ تنظیم فوری طور پر تحلیل کی جانی چاہیے۔ نئی شامی انتظامیہ کو اپنی علاقائی خودمختاری کو یقینی بنانا ہوگا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ترکیہ اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
غزہ میں جنگ بندی اور ایران-اسرائیل جنگ کا خدشہ
فیدان نے غزہ میں جنگ بندی کے امکانات پر امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فریقین حل کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے امکان پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران بڑے تصادم سے بچنا چاہتا ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ کے مطابق، شام کی موجودہ صورتحال علاقائی استحکام کے لیے فیصلہ کن موڑ پر ہے، اور ترکیہ تمام اقدامات کو اپنی قومی سلامتی اور علاقائی امن کے دائرے میں رکھ کر آگے بڑھ رہا ہے۔
