Turkiya-Logo-top

شام میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے پر ترکیہ سمیت اقوام عالم کا ردعمل

حیات التحریر الشام کے باغیوں نے شامی دارالحکومت، دمشق پر قبضہ کرکے الاسد خاندان کے 50 سالہ اقتدار کا خاتمہ کر دیا ہے۔ باغیوں نے سرکاری ٹی وی، ریڈیو اور وزارتِ دفاع کی عمارتوں پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس تاریخی پیشرفت کے بعد بین الاقوامی برادری کی جانب سے مسلسل ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ، 14 سالہ جنگ اور آمرانہ حکمرانی کے بعد شام کے عوام کے پاس ملک کو مستحکم اور پرامن بنانے کا نادر موقع ہے۔ انہوں نے تشدد سے اجتناب اور تمام شہریوں کے حقوق کے تحفظ پر بھی زور دیا۔
امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹُرتھ سوشل’ سے شامی انتظامیہ کے خاتمے کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ‘اسد جا چکے ہیں۔ انہوں نے اپنا ملک ترک کر دیا ہے۔ان کے سابقہ محافظ ‘ولادی میر پوتن’ کے زیرقیادت ملک ‘روس’ کو اب اسد سے کوئی دلچسپی نہیں ہے اور روس کی شام سے لا تعلقی کا سبب یوکرین ہے’۔
ٹرمپ نے مزید کہا ہے کہ، علاقائی مسائل کی وجہ سے روس اور ایران کمزور ہو گئے ہیں۔ جھڑپوں والے مقامات پر فوری فائر بندی کی ضرورت ہے، بہت سی زندگیاں بے وجہ ختم ہو رہی ہیں، بہت سے کنبے ختم ہو رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو حالات زیادہ خراب شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ میں ولادی میر کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔ یہ وقت حرکت میں آنے کا وقت ہے۔ چین مدد کر سکتا ہے۔ دنیا منتظر ہے’۔

عالمی رہنماؤں کے بیانات

ترکیہ: ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ، یہ صورتحال اچانک نہیں بلکہ 13 سال کی خانہ جنگی اور عدم استحکام کا نتیجہ ہے۔
ترکیہ گرینڈ نیشنل اسمبلی کے اسپیکر نعمان قرتولمش نے کہا ہے کہ، ہم شام میں ایک تاریخی موڑ کا مشاہدہ کر رہے ہیں، ترکیہ ایک آزاد اور جمہوری شام کی تعمیر کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کرے گا، ترکیہ کی اہم ترجیحات میں سے ایک تارکین وطن، جن کی ہم اپنے ملک میں کئی سالوں سے میزبانی کر رہے ہیں، کی شام کو باعزت اور محفوظ واپسی کو یقینی بنانے کے عمل کو تیز کرنا ہے’۔
برطانیہ: وزیراعظم کئیر اسٹارمر نے شام میں امن اور استحکام یقینی بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ، شامی عوام نے اسد حکومت کے دور میں بے پناہ مشکلات برداشت کیں۔ انہوں نے کہا کہ، ہمارا مقصد اب سیاسی حل کے ذریعے استحکام اور اقلیتوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
چین: چینی وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی کہ، شام میں جلد از جلد استحکام بحال ہوگا۔ چین اس بدلتی صورتحال کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے۔
فرانس: فرانس نے بشار الاسد حکومت کے خاتمے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے اتحاد اور شدت پسندی کے خاتمے پر زور دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ، اب وقت آ گیا ہے کہ، شامی عوام اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔
جرمنی: جرمن وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ، شام دوبارہ کسی انتہا پسند کے ہاتھ نہ چڑھے۔ انہوں نے تمام اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
ایران: ایران نے شام کے سیاسی تصفیے کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور بشار الاسد حکومت کے خاتمے کو شام کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے تسلسل کا موقع قرار دیا۔
عرب لیگ: عرب لیگ نے شام کے عوام کی مدد اور پابندیوں کے خاتمے کی اپیل کی، ساتھ ہی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
متحدہ عرب امارات: اماراتی عہدیدار نے شامی عوام سے افراتفری سے بچنے اور حالات پر قابو پانے پر زور دیا۔
قطر: قطری وزارت خارجہ نے شامی عوام کو قومی اتحاد اور اداروں کی حفاظت کی تلقین کی اور سیاسی ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل حل کرنے کی حمایت کا اعلان کیا۔
مصر: مصری وزارت خارجہ نے تمام شراکت داروں کو ملکی اداروں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل کی۔

مستقبل کی راہ

بشار الاسد کے اقتدار کے خاتمے کے بعد شام میں ایک نئی سیاسی اور سماجی حقیقت ابھر رہی ہے۔ عالمی برادری اور علاقائی رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ، شام کو ایک پرامن اور مستحکم مستقبل کی طرف لے جانے کے لیے فوری طور پر جامع سیاسی مکالمے اور تعمیر نو کی ضرورت ہے۔ یہ وقت شامی عوام کے لیے تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے، بشرطیکہ سب فریقین مل کر ملک کے استحکام اور اتحاد کی طرف بڑھیں۔

Read Previous

سیرین نیشنل آرمی نے پی کے کے دہشت گردوں کا گڑھ "منبج” فتح کر لیا

Read Next

ترکیہ ایک ایسا شام دیکھنا چاہتا ہے جہاں مختلف نسلی اور مذہبی گروہ امن سے رہ سکیں: وزیرِ خارجہ حاقان فیدان

Leave a Reply