turky-urdu-logo

ترک کمپنی کے ساتھ افغان حکومت کا گیس کے دو کنوؤں کی کھدائی کا معاہدہ

امارت اسلامیہ کی وزارت معدنیات و پیٹرولیم اور سفیر ڈرلنک سروسز نامی ترک کمپنی کے درمیان صوبہ جوزجان میں گیس کے دو کنوؤں کی کھدائی کا معاہدہ طے پایا۔

افغان وزیر معدنیات و پیٹرولیم شہاب الدین دلاور نے صوبہ جوزجان کے علاقے یتیم طاق میں گیس کے دو کنویں کھودنے کے لیے 7.5 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

سفیر ڈرلنک سروسز کمپنی کے صدر قادر کرکوچ نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس پراجیکٹ میں کئی ترک انجینئرز کام کریں گے، اور فی الحال 50 افغانوں کو ملازمت دی جائے گی، لیکن مستقبل میں دیگر لوگوں کو بھی کام کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

مائنز اور پیٹرولیم کے وزیر شیخ شہاب الدین دلاور نے کہا کہ جلد ہی ملک میں گیس کے دیگر کنوؤں کی کھدائی کے معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے، اس سلسلے میں عنقریب ایک غیر ملکی کمپنی کے ساتھ ایک ارب ڈالر مالیت کا معاہدہ کیا جائے گا جو صوبہ فاریاب کے علاقے طوطی میدان میں 4000 مربع کلومیٹر گیس پروجیکٹ میں سرمایہ کاری کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ امارت اسلامیہ جس رفتار اور حکمت عملی کے ساتھ کام کر رہی ہے، اس کی بدولت جلد افغانستان تیل اور گیس برآمد کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔
انہوں نے صوبہ ہرات کے 23,000 مربع کلومیٹر آئل فیلڈ کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ہرات آئل فیلڈ کو تین زونز اور گیارہ بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے جس میں تین غیر ملکی کمپنیاں اربوں ڈالر سرمایہ کاری کریں گی۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ انتظامیہ میں 8.2 ملین ڈالر مالیت کا کنواں کھودنے کا معاہدہ ہوا تھا لیکن اب بہتر انتظام اور معاملات میں شفافیت کے باعث مجموعی طور پر دو کنوؤں کے لیے 7.5 ملین ڈالر کا معاہدہ ہوا۔ شہاب الدین نے معاہدے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے آج ایک شفاف عمل کے ذریعے ترکیہ کی کمپنی کے ساتھ گیس کے دو کنوؤں کے معاہدے پر دستخط کرنے پر خوشی ہے۔

ان کے مطابق ٹینڈر کمپنیوں کی تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد اچھی تکنیکی اور مالی صلاحیتوں کی حامل سفیر ڈرلنک کمپنی کو 7.5 ملین ڈالر کی قیمت پر ٹھیکہ دیا گیا۔ یہ معاہدہ ایک سال کے لئے کیا گیا ہے۔

ان کنوؤں کی کھدائی کے بعد روزانہ 3 لاکھ کیوبک میٹر گیس نکالی جائے گی جس کی یومیہ آمدنی 60 ہزار ڈالر ہوگی۔

ان کے مطابق سفیر ڈرلنگ سروسز نامی ترک کمپنی 7.5 ملین ڈالر سرمایہ کاری کرے گی اور وہ ایک سال میں ان کنویں کے 1650 میٹر کھودے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں اربوں کیوبک میٹر قدرتی گیس کے ذخائر موجود ہیں جن میں سے 600,000 مکعب میٹر گیس روزانہ آمو دریا کے تیل کے بیسن کے کئی کنوؤں سے نکالی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نکالی جانے والی گیس گھروں، کاروبار، بجلی کی پیداوار، سی این جی، شیشے کے کارخانوں اور ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے استعمال کی جائے گی۔

وزارت مائنز و پٹرولیم کے حکام کا کہنا ہے کہ اس ٹینڈر میں چار دیگر غیر ملکی کمپنیوں نے بھی حصہ لیا تاہم سفیر ڈرلنک سروسز نامی ترک کمپنی کے ساتھ یہ معاہدہ طے پایا۔

Read Previous

استنبول میں "مشرق ایک نئی ترقی میں” کے عنوان سے کانفرنس کا انعقاد

Read Next

ترکیہ اور پاکستان کے بزنس لیڈرز فلسطین کی حمایت کے لیے افریقہ کے بلند ترین پہاڑ پر چڑھ گئے

Leave a Reply