صدر ایردوان نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ (AK) پارٹی کے 31 ویں مشاورتی اور تشخیصی اجلاس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین میں قتل عام 76 سالوں سے بلا تعطل جاری ہے۔ فلسطینی بچوں کو 76 سال سے بگڑی ہوئی ریاست نے قتل کیا ہے۔ 7 اکتوبر سے غزہ میں ہونے والی بربریت نے 76 سالوں سے فلسطینی عوام پر روزانہ ڈھائے جانے والے مظالم کو باقی دنیا دیکھ رہی ہے۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ہم ترکیہ کی جانب سے ہر موقع پر اس قتل عام کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ، ہم اپنے تمام وسائل کے ساتھ فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور رہیں گے۔ کوئی دباؤ، دھمکی اسے تبدیل نہیں کر سکتی۔
امریکی صدر بائیڈن کی حالیہ جنگ بندی کی تجویز کے بارے میں حماس کے مثبت موقف کی طرف توجہ مبذول کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ نیتن یاہو ہمارے خطے اور پوری دنیا کو اپنے ہی ملک سمیت ایک بڑی تباہی کی طرف گھسیٹ رہا ہے، اسے روکنا بہت ضروری ہے۔
ترکیہ کی جانب سے غزہ کو بلا تعطل امداد بھیجنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ ہم حماس اور فلسطینی حکومت کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ ہم ان کوششوں کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جن کا مقصد آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا ہے۔ اسپین، آئرلینڈ اور ناروے سمیت فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کی تعداد میں کا اضافہ ہوا ہے۔ اس تعداد میں مزید اضافہ اسرائیل کی غاصبانہ قبضے اور جبر کی پالیسی کا موزوں ترین جواب ہوگا۔
