turky-urdu-logo

رفح پر حملے نے اسرائیل کے اصل خونی رنگوں کو بے نقاب کر دیا ہے،صدر ایردوان

صدر ایردوان نے پیر کو رفح کے خلاف ہفتے کے آخر میں ہونے والے حملے پر جسے پہلے "محفوظ علاقہ” قرار دیا گیا تھا ،اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

صدر ایردوان نے استنبول میں وکلاء سے ٹی وی پر براہ براست خطاب میں اسرائیل اور آئی سی جے کے حکم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رفح پر اتوار کو ہونے والا حملہ جو اس نے  عالمی عدالت انصاف کے حکم کے بعد کیا، اس حملے نے  دہشت گرد ریاست اسرائیل کی غدار اور خونی نوعیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔

صدر نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ  نیتن یاہو اور اس کا قاتل نیٹ ورک لوگوں کا قتل عام کرکے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ وہ فلسطینی مزاحمت کو شکست دینے میں ناکام رہے ہیں۔

نیتن یاہو اپنے آپ کو (سابق یوگوسلاو کے طاقتور شخص سلوبوڈان) میلوسیوک، (نسل کشی کے مجرم بوسنیائی سرب سیاست دان راڈووان) کاراڈزک اور (آخر جرمن آمر ایڈولف) ہٹلر کی طرح اپنے آپ کو انجام تک پہنچنے سے نہیں بچا سکیں گے۔

صدر ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن کوشش کرے گا کہ ان اسرائیلی وحشیوں کو ان کے کیے گئے جرائم کے لیے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔”

اتوار کے روز رفح میں بے گھر افراد کے کیمپ کو اسرائیل نے نشانہ بنایا ،جس کے نتیجے میں کم از کم 35 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

غزہ میڈیا آفس نے بتایا کہ یہ حملہ تل السلطان میں فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی ایجنسی (UNRWA) کے لاجسٹک بیس کے قریب ہوا۔

میڈیا آفس نے بتایا کہ اسرائیلی طیاروں نے علاقے میں کئی خیموں کو نشانہ بنایا، اس میں میزائل اور 2000 پاؤنڈ کے بم استعمال کیے گئے۔

اس سے قبل، غزہ کی سول ڈیفنس فورس نے کہا کہ نشانہ بنایا گیا علاقہ کم از کم 100,000 بے گھر افراد کو پناہ دیتا ہے۔

Read Previous

عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ! کیا اسرائیل کو عالمی تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے؟

Read Next

ترکیہ کے چیف آف جنرل اسٹاف کی متحدہ عرب امارات کے اپنے ہم منصب سے ملاقات

Leave a Reply