12 امریکی سینیٹرز کی عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کو دھمکی ، نیتن یاہو سمیت دیگر اسرائیلی حکام کے خلاف اگر وارنٹ جاری ہوئے تو عالمی عدالت کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں گی ، سینیٹرز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر عدالت اسرائیل کو قصوروار ٹھراتی ہے تو یہ نا صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کی خود مختاری پر بھی حملہ تصور کیا جائے گا۔
امریکی سینیٹرز کی جانب سے بھیجے گئے خط میں 12 ریپبلکن سینیٹرز کے دستخط موجود ہیں۔

امریکہ کے متعدد سنیٹرز اور ممبران کانگریس نے صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور اسرائیل کے خلاف انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی کسی بھی کارروائی کو ناکام بنائیں۔
دوسری جانب عالمی عدالت جرائم نے خبردار کیا ہے کہ عدالت یا اس کے عملے کو دھمکیاں دینا بند کیا جائے، ایسا کرنا جرم سمجھا جاسکتا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت نے کہا ہے کہ عدالت یا اس کے عملے کے خلاف دھمکی جرم سمجھجی جا سکتی ہے، ایسا کرنا عدالت کے کام میں مداخلت اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے 2022 میں دھمکی دی تھی کہ اگر عالمی فوجداری عدالت نے غرب اردن اور غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا
