صدر ایردوان کاکہنا تھا کہ ترکیہ نے 22 دسمبر سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے ایک حصے کے طور پر PKK کے 59 دہشت گردوں کو بے اثر کر دیا ہے۔
دارالحکومت انقرہ میں مقامی حکام سے بات کرتے ہوئے صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ اگر دہشت گردی آج ہماری سرحدوں کے اندر ختم ہونے کے قریب پہنچ گئی ہے، تو ہم عراق اور شام میں جو کارروائیاں کر رہے ہیں، وہ اس کی اہم وجہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہماری سرخ لکیر ہر حال میں ایک قوم، ایک پرچم، ایک وطن، ایک ریاست کے اصول کو برقرار رکھنا ہے، کیونکہ یہ ہماری قومی بقا کی ضمانت دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ اس وقت تک انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رکھے گا جب تک کہ آخری دہشت گرد کا خاتمہ نہیں کر دیتا۔
صدر ایردوان نے مزید کہا کہ ہم اپنی سرحدوں سے باہر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دہشت گردوں کو اپنے گندے پاؤں سے ہمارے وطن کو داغدار کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ ترک انٹیلی جنس شمالی شام میں دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور سرغنہوں کے خلاف انتہائی کامیاب کارروائیاں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ PKK دہشت گرد گروپ سے تعلق رکھنے والی آئل ریفائنریز سمیت کل 70 اہم تنصیبات کو تباہ کر دیا گیا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ جہاں بھی ان کے لیے ایسے ذرائع ہوں گے، ہم ان ذرائع کو تباہ کر دیں گے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ نے گزشتہ برسوں میں شمالی عراق میں مستقل بنیادوں کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سڑکیں بنائی ہیں۔
امید ہے کہ، ہم موسم بہار تک اپنے نئے اڈے والے علاقوں کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل کر لیں گے، اور ہم دہشت گردوں کو دوبارہ وہاں قدم جمانے کا موقع نہیں دیں گے۔
