صدر ایردوان کا دبئی میں منعقدہ ورلڈ کلائمیٹ ایکشن سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سولہ ہزار فلسطینی شہدا کا ہم پر قرض ہے کہ ہم ایک آزاد، خود مختار فلسطینی ریاست کا قیام کریں جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
اسرائیل غزہ میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے ، فلسطینی سرزمین پر جو انسانی المیہ جاری ہے ، اس پر خاموش رہنا ہمارے لیے نا ممکن ہے۔
16 ہزار بے گناہ شہداء، جن میں بیشتر خواتین اور بچے تھے، ان کا قاتل اسرائیل ہے اور اس بدترین جرم کو کوئی توجیہ ممکن نہیں ۔
صدر ایردوان دبئی میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلقہ عالمی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جنگی جرائم کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ
اہلِ غزہ پر انسانیت سوز مظالم اور جنگی جرائم کے مرتکب اسرائیلی مجرموں کو عالمی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے ۔ ان حالات میں 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام نا گزیر ہو گیا ہے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو۔
ہم ، اہلِ ترکیہ، اس سلسلے میں ہر ممکنہ ذمہ داری نبھانے کے لیے تیار ہیں،
انہوں نے کہا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے نیٹ زیرو اومیشن ٹارگٹ کو ہم 2053 تک حاصل کر لیں گے ، ہم نے 55٪ قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع استعمال کیے ہیں،
جبکہ جیو تھرمل بجلی کے سلسلے میں ہم دنیا میں چوتھے، جبکہ یورپ میں پہلے نمبر پر ہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ تمام عالمی بحرانوں اور المیوں کے بیچ عالمی امن کا پرچم بلند کر رہا ہے ، ہماری آواز انصاف اور مساوات کی قرارداد ہے۔
صدر ایردوان نے ایک بار پھر اپنے نعرے کو بیان کیا کہ دنیا 5 سے وسیع تر ہے، یہ پانچ ممالک غزہ المیے کے سلسلے میں کوئی بھی مثبت کردار ادا کرنے میں ناکام رہے ، اور یہ دنیا نے دیکھ لیا، ہمیں ایک غیر جانبدار اور منصفانہ دنیا کی ضرورت ہے۔
