صدر ایردوان نے فلسطین اسرائیل تنازع کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی امن کانفرنس کی تجویز پیش کردی۔
صدر ایرددوان نے انقرہ میں کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی کانفرنس، تمام متعلقہ فریقوں کی شرکت کے ساتھ، امن کے لیے موزوں ترین پلیٹ فارم ہو گی۔
انہوں نے وضاحت کی کہ غزہ میں جاری قتل عام کو روکنا بہت ضروری ہے جو 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے شدید اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔
انکا کہنا تھا کہ پہلے جنگ بندی کا اعلان کیا جانا چاہیے، اس کے بعد دیرپا امن کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
ترکیہ پہلے ہی اسرائیل اور فلسطین کے مسئلے میں تشدد کے خاتمے اور دو ریاستی حل تک پہنچنے کے لیے ضامن نظام کی تجویز پیش کر چکا ہے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ اسرائیل، امریکہ اور یورپ کی حمایت سے غزہ میں گزشتہ 25 دنوں سے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اسرائیل، جو بظاہر اپنی اہمیت کھو چکا ہے وہ ایک تنظیم کی طرح کام کر رہا ہے جو مسلمانوں کے خلاف کام کر رہی ہے اور اسے جلد از جلد روکا جانا بہت ضروری ہے۔
ہماری بات چیت اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جاری ہے کہ غزہ میں جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے۔
اسرائیل فلسطین تنازع پر عالمی برادری کے نقطہ نظر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ یورپی یونین جنگ بندی کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی تو کم از کم اسرائیل کی مذمت ہی کر دے۔
انہوں نے تنازعہ کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی ہلاکتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی میڈیا تنظیمیں، اگرچہ غزہ میں ان کے 34 سے زیادہ ساتھی مارے گئے ہیں، لیکن وہ ایک بھی تنقیدی جملہ نہیں کہہ سکتے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل صرف دیکھ رہی ہے کہ غزہ میں اقوام متحدہ کی تنظیموں اور اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
صدر ایردوان نے کہا کہ ترکیہ فلسطینیوں کی مدد کر رہا ہے اور اب تک 213 ٹن انسانی امداد بھیج چکا ہے۔
