افغانستان کے دارالحکومت کابل میں وزارت خارجہ کے باہر دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں 20 افراد جاں بحق ہو گئے۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زردان نے بتایا کہ وزارت خارجہ کے باہر سڑک پر دھماکے میں ہمارے 20 شہری شہید اور دیگر کئی افراد زخمی ہو گئے۔
ان کا کہنا تھاکہ امارت اسلامیہ مسلمانوں پر ایسے بے مقصد اور بزدلانہ حملے کی مذمت کرتی ہے، مجرموں کو ان کے برے کاموں کی سزا دی جائے گی۔
قبل ازیں طالبان وزارت اطلاعات کے ترجمان استاد فریدون نے بتایا تھا کہ ایک خودکش بمبار نے وزارت خارجہ میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔
ان کا کہنا تھا کہ خودکش دھماکے میں 20 افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
مصدقہ ویڈیو میں دھماکے کے بعد وزارت کے باہر سڑکوں پر لاشیں پڑی تھیں۔
رپورٹ کے مطابق زمین پر پڑے متعدد زخمی افراد مدد کے لیے چیخ رہے تھے، وہاں موجود کچھ افراد مدد کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
کابل پولیس کے ترجمان خالد زردان نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق دھماکا 4 بجے ہوا، انہوں نے ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا کہ حکام تحقیقات کررہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دھماکا دن کے مصروف وقت میں ایسے علاقے میں ہوا، جہاں سڑک پر چاروں طرف چوکیاں موجود ہیں، وہاں پر کئی وزارتوں کے دفاتر بھی قائم ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس علاقے میں ترکیہ، چین سمیت دیگر چند ممالک کے سفارت خانے بھی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بظاہر وزارت خارجہ بری طرح تباہ نہیں ہوئی، دھماکے کے نتیجے میں کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
جائے وقوعہ کے قریب دفتر میں کام کرنے والے نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے زوردار دھماکے کی آواز سنی، جس کے بعد انہیں عمارتوں سے باہر نکال دیا گیا۔
