نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی کی دس سال بعد پاکستان پہنچ گئیں ۔ ملالہ یوسف زئی اپنے والدین کے ہمراہ قطر ائیرلائن کی پرواز 604 کے ذریعے کراچی پہنچیں۔
ملالہ یوسف زئی کو پولیس کی جانب سے مکمل سکیورٹی فراہم کی گئی ہے، وہ ملک میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گی۔
ملالہ یوسفزئی کو سخت سکیورٹی میں جناح ٹرمینل سے ان کی رہائش گاہ پہنچایا گیا، وہ آج کراچی میں ہی قیام کریں گے اور کل سیلاب سے متاثرہ دعلاقوں کا دورہ کریں گے جب کہ اس موقع پر سندھ حکومت کے عہدیداران بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملالہ فنڈ کی شریک بانی ملالہ یوسفزئی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 77ویں اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تھی۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے ملالہ یوسفزئی کی جانب سے سماجی مسائل بالخصوص بچیوں کی تعلیم پر عالمی سطح پر وکالت کو سراہا تھا۔
وزیراعظم نے حالیہ موسمیاتی سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور تباہی پر روشنی ڈالی تھی جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا، وزیراعظم نے سیلاب سے تعلیمی انفراسٹرکچر پر مرتب ہونے والے اثرات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
ملالہ یوسف زئی نے اس موقع پر تمام بچیوں کیلئے تعلیم کے حق کو فروغ دینے کے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں حالیہ سیلاب سے بہت سے سکول تباہ ہوگئے۔ انہوں نے پسماندہ بچوں بالخصوص بچیوں کی مدد کیلئے اپنے عزم کا اظہار کیا۔ملالہ نے تباہ کن سیلاب کے اثرات سے نمٹنے بالخصوص بچیوں کی تعلیم تک رسائی کیلئے پاکستان کی کوششوں کیلئے ملالہ فنڈ کی معاونت کا یقین دلایا۔ ملالہ یوسف زئی سوات میں 2015 میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے کے بعد لندن چلی گئی تھیں۔ جبکہ ملالہ کا انگلینڈ منتقل ہونے کے بعد یہ پاکستان کا دوسرا دورہ ہے
