افغان دارالحکومت کابل میں گردوارے پر حملے میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور 7 افراد زخمی ہو گئے، حکام نے بتایا کہ واقعہ دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی پھٹنے کے نتیجے میں پیش آیا تاہم فوری طور پر کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
مقامی نشریاتی ادارے ’طلوع نیوز‘ کی جانب سے نشر ہونے والی تصاویر میں علاقے میں دھواں پھیلا دیکھا جاسکتا ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نے کہا کہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے لدی ایک کار کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی دھماکے سے اڑا دیا۔
گردوارے کے ایک عہدیدار گورنام سنگھ نے کہا کہ گرودوارے کے اندر تقریباً 30 لوگ موجود تھے، ہمیں نہیں معلوم کہ ان میں سے کتنے زندہ ہیں یا کتنے مردہ ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گردوارے کے حکام کو معلوم نہیں کہ کیا کرنا ہے کیونکہ طالبان انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔
کابل کے کمانڈر کے ترجمان نے کہا کہ ان کی فورسز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اسے حملہ آوروں سے پاک کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عبادت کے لیے گردوارے آنے والا ایک سکھ حملے میں ہلاک ہوگیا اور ایک طالبان جنگجو کلیئرنگ آپریشن کے دوران مارا گیا۔
گزشہ سال اگست میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان کا کہنا ہے کہ انہوں نے افغانستان کو محفوظ بنا لیا ہے، جبکہ بین الاقوامی حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندی کے دوبارہ سر اٹھانے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔
حالیہ مہینوں میں ہونے والے کچھ حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے۔
سکھ کمیونٹی کے ارکان اور میڈیا کا کہنا ہے مسلم اکثریت والے ملک افغانستان میں سکھ بڑی تعداد میں ایک چھوٹی مذہبی اقلیت ہیں جو کہ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے سے قبل تقریباً 300 خاندانوں پر مشتمل تھے لیکن بہت سے لوگ بعد میں ہجرت کرگئے۔
دیگر مذہبی اقلیتوں کی طرح سکھ بھی افغانستان میں پرتشدد واقعات کا مسلسل نشانہ بنتے رہے ہیں، 2020 میں کابل میں ایک اور مندر پر حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی جس میں 25 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
