پاکستان کے سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے آج اسلام آباد میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پی 5 کے سفیروں سے انفرادی طور پر ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل ارکان پی 5 کے سفیروں کو ہندوستان کی حکمران جماعت بی جے پی کے دو سینئر عہدیداروں کی طرف سے رسول اکرم ﷺ کے خلاف کیے گئے تضحیک آمیز اورجارحانہ ریمارکس سے آگاہ کیا۔
بین الاقوامی امن و سلامتی کو برقرار رکھنے اور اقوام متحدہ کے چارٹر میں درج اصولوں کو برقرار رکھنے کے حوالے سے پی 5 ممالک کی خصوصی ذمہ داری کو یاد کرواتے ہوئے سیکرٹری خارجہ نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت میں اسلامو فوبیا کی بڑھتی ہوئی لہر اور ان تیزی سے بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر کا نوٹس لیں۔
خارجہ سکریٹری نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان افراد کے خلاف کی جانے والی بی جے پی کی بے پروا اور معمولی کارروائی سے دنیا بھر میں مسلمانوں کو پہنچنے والے دکھ اور تکلیف کا ازالہ نہیں کیا جاسکتا۔
سیکرٹری خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ توہین آمیز تبصروں کی واضح طور پر مذمت کرنے میں بی جے پی کی قیادت اور ہندوستانی حکومت کی ناکامی ’ہندوتوا‘ کے پرجوشوں کی طرف سے مستثنیٰ ہونے کا ایک اور ثبوت ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ بھارت پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف فیصلہ کن اور قابل عمل کارروائی کرے۔
ہندوستان کو اپنی مذہبی اقلیتوں بالخصوص مسلم آبادی کے حقوق سلب کرنے کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور ان کے بنیادی حقوق اور آزادی کے مکمل تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
