Turkiya-Logo-top

سوشل میڈیا غلط معلومات پھیلانے کا ذریعہ بن چکا ہے ،سربراہ ترک براڈ کاسٹر

ترکی کے قومی نشریاتی ادارے کے سربارہ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا غلط معلومات پھیلانے کا ایک ذریعہ بن چکا ہے جس کے باعث جعلی خبریں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

ترک ریڈیو ٹیلی وزن کے ڈائیرکٹر جنرل مہمت زاہد سوبکی نے انٹرنیشنل ینگ کمینیکیٹرز فارم سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا ایک ایسا شعبہ ہوگا جہاں لوگ اپنی رائے کا اظہار آزادی سے کریں گے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارم جعلی اور غلط خبروں کو پھیلانے کا ذریعہ بن چکا ہے۔

سوبکی نے ترکی کے تفریحی شہر انطالیہ میں ہونے والے فورم میں نوجوانوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو اب ایک ایسے سوشل میڈیا کا سامنا ہے جو افراتفری، غیر یقینی صورتحال اور انتہا پسندی سے فائدہ اْٹھاتا ہے۔

اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ڈیجیٹل دنیا میں غلط معلومات اور ہیرا پھیری بہت زیادہ ہے، انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، درست معلومات کی ضرورت میں ہر روز اضافہ ہو رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ جیسا کہ عالمی نظام بحران کا شکار تھا، اس سے مزید غلط معلومات سامنے آئیں، انہوں نے مزید کہا کہ عالمی نظام اس کو جھوٹی خبروں سے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے جس سے معاشروں میں ہیرا پھیری کی کوششوں میں اضافہ ہوا ہے۔

فورم کے ایک پینل میں، ترکی کے کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کے نمائندوں نے ادارے کے وژن اور کام کا اشتراک کیا۔

اسٹریٹجک کمیونیکیشنز اور کرائسز مینجمنٹ کے سربراہ، گوخان یوسیل نے پینل کے ماڈریٹر کے طور پر کام کیا۔

ڈائریکٹوریٹ کے پبلک ڈپلومیسی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ اوگوز گونر نے کہا کہ وہ پبلک ڈپلومیسی میں دو طرفہ تعلقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور وہ بیرون ملک صحافیوں، فنکاروں اور سیاست دانوں کے ساتھ دو طرفہ تعلقات قائم کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

گونر نے کہا کہ اپنے آپ کو بین الاقوامی عوام کے سامنے بیان کرنا بہت مشکل ہے اس لیے ہم سچ کو پھیلانے اور بتانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔

ڈائریکٹوریٹ کے پریس اینڈ پبلی کیشن ڈیپارٹمنٹ کی سربراہ بصرہ قرادومن اکتونا نے کہا کہ وہ بیرون ملک میں ترکی کے بارے میں لکھی گئی خبریں مرتب کرتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ اپنے ملک میں 16 ہزار پریس ممبران کے کام میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔

ایکر نے کہا کہ وہ ترک صدر رجب طیب ایردوان کے پروگراموں کو مربوط کرتے ہیں اور ان کا بہت مصروف شیڈول ہے۔

ڈائریکٹوریٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ ڈرمس ایرسوئے نے کہا کہ ایوان صدر کا مواصلاتی مرکز دنیا بھر میں بے مثال ہے اور گزشتہ سال اس مرکز کو 6 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔

Read Previous

کورونا وبا کے بعد استنبول میں سیاحوں کی آمد میں ریکارڈ اضافہ

Read Next

واٹس ایپ نے صارفین کا بڑا مسئلہ حل کر دیا

Leave a Reply