ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں ایک فن میلے میں روسی نژاد فنکار نے یوکرین کے خلاف روسی حملوں کے حوالے سے امن کی اپیل کی ہے۔
الیگزینڈر میلنیکوف نے آرٹ انقرہ کنٹیمپریری آرٹ فیئر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ یہ حملے فوری طور پر ختم ہو جائیں گے اور زیادہ دیر تک نہیں رہیں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ جارحانہ تحریکیں فوری طور پر ختم ہو جائیں۔
میلنیکوف، جو روس میں پیدا ہوئے اور یوکرین کے دارالحکومت کیف میں تعلیم حاصل کی انہیں اس طویل عرصے سے چل رہی جنگ کےباعث اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔
انکا کہنا تھا کہ انکے ملک میں کیا ہو رہا ہے اسکو بیان کرنا اور اس پر یقین کرنا بہت مشکل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جب حملے شرع ہوئے تب ہم کیف میں اپنے آرٹ آفس میں موجود تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر حملے تیز کرنے کے بعد وہ اپنی بیوی کے ساتھ ایک پناہ گاہ میں چھپ گئے۔
میلنیکوف، جو تقریباً ایک ہفتے تک پناہ گاہ میں رہے، کو ترکی میں اپنے دوستوں کی طرف سے فن میلے میں شرکت اور جنگ کے دوران اپنا کام بحفاظت جاری رکھنے کا دعوت نامہ موصول ہوا۔ وہ 7 دن کے سفر کے بعد اپنی اہلیہ اور تین بلیوں کے ساتھ انقرہ پہنچے۔
میلنیکوف، جن کی پینٹنگز کی نمائش ٹری آف سائنس فاؤنڈیشن کے اسٹینڈ پر ہوئی تھی، نے یوکرین کا جھنڈا اپنے کاموں کے سامنے رکھا۔
انہوں نے مزید کؤ بتایاہمیں تقریباً ایک دن تک سرحد پر انتظار میں رکھا گیا۔ سب سے لمبی لائن رومانیہ کی ہے۔ جب ہم نے یہاں آکر اس شاندار تنظیم کو دیکھا تو ہم بہت خوش ہوئے۔ ہم اپنے پرانے دوستوں، فنکاروں، مصوروں سے ملے۔
جب سے روس نے یوکرین کے خلاف اپنی جنگ شروع کی ہے، اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق، 20 لاکھ 69 ہزار سے زیادہ لوگ دوسرے ممالک کو بھاگ چکے ہیں۔
یوکرین میں کم از کم 596 شہری بھی ہلاک اور 1,067 زخمی ہوئے ہیں۔
جہاں یورپی یونین، امریکہ اور دیگر نے ماسکو پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں، وہیں بہت سی کمپنیوں اور عالمی برانڈز نے بھی روس میں کام معطل کر دیا ہے۔
