اسرائیلی فوج نے دو افسران کو چاقو مارنے کے الزام میں ایک شخص کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں فائرنگ کر کے شہید کردیا۔
یہ واقعہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مسجد اقصیٰ کے دروازوں میں سے ایک بیب ہتا میں مقامی وقت کے مطابق ساڑھے چار بجے کے قریب پیش آیا۔
مذکورہ شخص کی شناخت 19سالہ کریم جمال القواسمی کے نام سے ہوئی ہے اور وہاں موقع پر پہنچنے والے طبی عملے نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
اسرائیلی پولیس نے بیان میں کہا کہ حملہ آور نے چاقو نکالا اور ایک افسر پر حملہ کردیا، دوسرا افسر واقعے میں زخمی ہوا اور دونوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔
اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ چاقو سے کیے گئے اس مبینہ حملے میں دو افسران معمولی زخمی ہوئے۔
سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو میں ایک نوجوان کو گولی لگنے کے بعد زمین پر ڈھیر دیکھا جا سکتا ہے البتہ اس ویڈیو کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہ ہو سکی۔
اسرائیلی فورسز نے واقعے کے بعد مسجد الاقصیٰ کے تمام داخلی دروازوں کو بند کردیا ہے البتہ کچھ دیر بعد انہیں دوبارہ کھول دیا گیا۔
یہ نوجوان مشرقی یروشلم کے علاقے الطور کا رہائشی تھا اور اسرائیلی فوج نے نوجوان کی موت کے بعد اس کے گھر پر چھاپہ بھی مارا تھا اور اس کے بھائی اور والدہ کو گرفتار کر لیا ہے۔
اسرائیل نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 1967 میں یروشلم کے مشرقی حصے پر قبضہ کر کے اپنے ساتھ الحاق کر لیا تھا۔ بیشتر ممالک مشرقی یروشلم کو مقبوضہ علاقہ سمجھتے ہیں اور وہاں اسرائیلی خود مختاری یا غیر قانونی بستیوں کو تسلیم نہیں کرتے۔
فلسطینی حکام دعویٰ کرتے ہیں کہ مشرقی یروشلم مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو گا جس میں مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی بھی شامل ہے۔
یکم مارچ کو اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو الگ الگ واقعات میں تین فلسطینیوں کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔
اسی دن اسرائیلی افواج نے دمشق کے پرانے شہر کے دروازے پر شب معراج پر فلسطینیوں کی تقریبات کو پرتشدد طریقے سے دبانے کی کوشش کی تھی۔
اسرائیلی تشدد میں بچوں سمیت کم از کم 30 فلسطینی زخمی ہو گئے تھے اور اس میں اسٹین گرینیڈ اور ربڑ کوٹیڈ اسٹیل کی گولیوں کا استعمال کیا گیا تھا جبکہ اس واقعے کے بعد 20 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
