آج آذربائیجان "خوجالے قتل عام” کی 30 ویں برسی منا رہا ہے۔ جب آرمینیا کی مسلح افواج نے پر امن علاقے پر حملہ کیا اور نسل کشی کی سیاح داستان رقم کی۔
آذربائیجان کے خلاف آرمینیا کی جارحیت اور کاراباخ جنگ کا سیاح باب خوجالے شہر کی تباہی اور یہاں کی لوگوں کی نسل کشی ہے ۔ یہ شہر کاراباخ علاقے کا حصہ ہے جس میں 7 ہزار سے زائد لوگ آباد تھے۔
اکتوبر 1991 سے خوجالے شہر کو آرمینین فوج نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا جبکہ 25 فروری 1992 کی رات آرمینیا کی فوج نے شہر پر حملہ کر دیا اور علاقے پر قابض ہو گئے۔ جس کے نتیجے میں شہر مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور سیکٹروں قیمتی جانوں کا ناقابل تلافی نقصان بھی ہوا۔
آرمینیا کی فوج نے علاقے میں گھس کر 613 افراد کا بے رحمی سے قتل کیا جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں ۔
5 ہزار سے زائد کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور کیا ۔ ایک ہزار سے زائد افراد کو اپنے قبضے میں لے لیا جن میں 150 سے زائد کا آج تک پتا نہیں چل سکا۔
خوجالے میں 30 سال پہلے ہونے والی یہ نسل کشی آرمینیا میں ریاستی سطح پر پائی جانے والی آذربائیجان اور اس کے شہریوں کے لیے نفرت کا نتیجہ تھی۔
سانحہ خوجالے اور دیگر جنگی جرائم جن کا آرمینیا مرتکب رہا ہے بین الاقوامی اور سلامتی کونسل کے قوانین کی خلاف وزی اور انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
