ترک ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سردی کی بڑھتی ہوئی لہر اور ملک کے کچھ حصوں میں برف جمنے کے ساتھ ساتھ وسطی ترکی کا ایک قصبہ منفی 31ڈگری تک پہنچ گیا جو انسانی ہڈیوں کو تھنڈا کرنے کے لیے کافی ہے۔
سیواس صوبے گورون قصبے نے ترکی میں پڑھنے والی سب سے زیادہ سردی دیکھی ۔
دوسرے نمبر پر شمال مغربی صوبہ بولو میں گیریدے کے گاوں سمات کے قریب منفی 29 ڈگری رہا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے کئی دنوں میں سیواس اور بولو دونوں کے موسم میں تبدیلی آنے کی امید ہے، جس سے مقامی لوگوں کو سردی سے کچھ راحت ملے گی۔
