Turkiya-Logo-top

جی سیون ممالک نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو خبردار کر دیا

جی سیون ممالک نے روسی صدر ولادمیر پیوٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتنے کے ساتھ ساتھ بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔

آئندہ سال یوکرین پر متعدد محاذوں پر حملہ کر سکتا ہے جس میں پونے دو لاکھ فوجی دستے شامل ہو سکتے ہیں۔

روس کے محکمہ دفاع نے مغربی ممالک کے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مغرب روس فوبیا کا شکار ہے اور نیٹو کی توسیع سے روس کو خطرات لاحق ہیں۔

لیورپول میں ہونے والے جی۔سیون اجلاس میں دنیا کے امیر ترین ممالک کے وفود نے کہا کہ یوکرین کے قریب روس کی فوجی مشقوں کی مذمت کرنے میں متحد ہیں اور روس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کرے۔

جی۔سیون ممالک نے اپنے بیان میں کہا کہ روس کو ہرگز شک نہیں ہونا چاہیے کہ اگر وہ یوکرین پر جارحیت کرے گا تو اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے اور اس کی بھاری قیمت چکانا ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ کسی بھی خود مختار ریاست کے اپنے مستقبل کا خود تعین کرنے کے حق کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کی تصدیق کرتے ہیں۔

لندن میں روسی سفارتخانے سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کہ برطانیہ کی جانب سے لیورپول اجلاس کے دوران لفظ ’روسی جارحیت‘ کا بار بار استعمال گمراہ کن ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ روس نے کشیدگی میں کمی کے لیے نیٹو کو متعدد پیشکش کی ہیں، جی۔سیون فورم ان پر بات کرنے کا ایک موقع ہو سکتا ہے لیکن ابھی تک ہم نے جارحانہ بیانات کے سوا کچھ نہیں سنا۔

دوسری جانب روس کے صدر ولادمیر پیوٹن نے کہا کہ ہمیں اس بات کی سیکیورٹی ضمانت دی جائے کہ نیٹو مشرق میں مزید توسیع نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنے ہتھیار روسی سرزمین کے قریب نصب کرے گا البتہ واشنگٹن نے بارہا کہا ہے کہ کوئی بھی ملک یوکرین کی نیٹو کی امیدوں کو ویٹو نہیں کر سکتا۔

2014 میں روس نے یوکرین کا حصہ تصور کیے جانے والے بحیرہ اسود کے جزیرہ نما علاقے کریمیا پر قبضہ کر لیا جس کے بعد مغربی دنیا نے روس پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

روس کے محکمہ دفاع نے اتوار کو بیان میں کہا ہے کہ پیوٹن نے امریکی صدر جو بائیڈن کو کہا ہے کہ روسی فوجیوں سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور روس کو اس کی اپنی ہی سرحد کے ارد گرد فوجیں منتقل کرنے پر مجرم بنا کر پیش کیا رہا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پیوٹن اور بائیڈن نے مزید مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس اور امریکا کے درمیان ماسکو کی سرحدی حدود پر بہت سنگین نظریاتی اختلافات ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا ہے کہ روس یوکرین پر اپنا اثر و رسوخ استعمال نہیں کر سکتا۔

روس اسی کوشش میں ہے اور اگر ہم انہیں استثنیٰ دیتے ہوئے جانے دیتے ہیں، تو پورا نظام جو جنگ کو روک کر استحکام فراہم کررہا ہے، وہ خطرے میں پڑ جائے گا۔

جی۔سیون برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور امریکا کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے ایک نمائندے پر مشتمل ہے۔

جی 7 نے کہا کہ ہم روس سے کشیدگی میں کمی، سفارتی ذرائع کا استعمال اور فوجی سرگرمیوں کی شفافیت کے حوالے سے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کا مطالبہ کرتے ہیں۔

Read Previous

امریکی ریاست کینٹکی میں طوفانی بگولے 100 افراد کی جانیں نگل گئے، درجنوں لاپتہ

Read Next

اومیکرون ویرینٹ ڈیلٹا کے مقابلے زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے ، عالمی ادارہ صحت

Leave a Reply