turky-urdu-logo

اقوام متحدہ نے افغانستان کو نمائندگی دینے کا فیصلہ ملتوی کر دیا

گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس کے تحت افغان طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت کے نمائندوں کو تسلیم کرنے کا معاملہ غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔

امریکا، روس اور چین سمیت 9 ممالک پر مشتمل اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی کے معاہدے پر مشتمل قرارداد کو اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ووٹنگ کے بغیر اتفاق رائے سے منظور کرلیا۔

گزشتہ ہفتے کمیٹی نے جنرل اسمبلی کے موجودہ سیشن کے لیے افغانستان اور ’میانمار کے نمائندوں کی شمولیت کو مؤخر کرنے‘ کی تجویز دی تھی، جنرل اسبملی کا موجودہ سیشن ستمبر 2022 میں ختم ہوگا۔

9 ممالک پر مشتمل کریڈنشلز کمیٹی کی صدارت اس وقت سویڈن کے پاس ہے اور مستقبل قریب میں کمیٹی کا مزید کوئی اجلاس ہونے کی بھی امید نہیں ہے۔

افغانستان اور میانمار کے معاملے پر اقوام متحدہ میں نئی اور پرانی حکومتوں کی جانب سے دو مختلف درخواستیں موجود تھیں۔

میانمار میں یکم فروری کو فوجی قبضہ ہونے کے بعد وزیر خارجہ وونا ماونگ لوین نے 18 اگست کو سابق فوجی کمانڈر اونگ تھورئین کو اقوام متحدہ میں تعینات کیا تھا۔

تاہم سابق سربراہ آنگ سان سوچی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات کیے گئے نمائندہ کیاو مو تُن نے فوجی قیادت کا حکم ماننے سے انکار کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے درخواست کی ان کی نمائندگی کو برقرار رکھا جائے۔

سابق افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے اقوام متحدہ میں تعینات سفیر غلام اسحٰق زئی نے بھی 14 ستمبر کو اقوام متحدہ میں اسی قسم کی درخواست دی تھی۔

طالبان نے اگست کے وسط میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد 20 ستمبر کو اقوام متحدہ سے درخواست کی کہ وہ ان کے سابق ترجمان سہیل شاہین کو افغانستان کے نئے نمائندے کے طور تسلیم کرلے۔

طالبان اور میانمار کی فوجی حکومت نے اپنے نامزد کردہ نمائندوں کی منظوری نہ دینے پر اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی پر تنقید کی ہے۔

گزشتہ ہفتے سہیل شاہین نے کہا کہ ’یہ فیصلہ قانونی تقاضوں اور انصاف کے اصولوں پر مبنی نہیں ہے کیونکہ انہوں نے افغان عوام کو ان کے قانونی حق سے محروم کیا ہے‘۔

میانمار کی فوجی حکومت کے ترجمان زا مِن تُن کا کہنا تھا کہ کمیٹی کا فیصلہ زمینی حقائق کا عکاس نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی کریڈنشلز کمیٹی نے بدھ کے روز 191 ممالک کے نمائندگان کی منظوری دی جس میں صرف وینزویلا کے نمائندے پر امریکا نے اعتراض اٹھایا۔

Read Previous

ترکی:رومی کے 748ویں برسی کے موقع پر پیش کی جانے والی تقریبات کی تیاریاں مکمل

Read Next

سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث ملزم فرانس سے گرفتار

Leave a Reply