اسلام آباد میں آذربائیجان کے سفارتخانے میں 27 ستمبر کے قومی یادگار دن کی مناسبت سے تقریب کا اہتمام کیا گیا۔
سینٹ کے چیر مین محمد صادق سنجرانی، ڈپٹی چیئرمین مرزا آفریدی، ترکی کے سفیر مصطفی یرداکل، اراکین پارلیمنٹ اور کئی دیگر ممالک کے سفیروں نے شرکت کی۔
مہمان خصوصی چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کے شانہ بشانہ کھڑا رہا اور ائندہ بھی مشکل وقت میں اپنے آذربائیجانی بہن بھائیوں کیساتھ کھڑے رہیں گے انہوں نے کشمیر ایشو پر آذربائیجان کے جانب سے پاکستان کی بھرپور حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے آذربائجان کے شہداء کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ آذربائجان کے عوام اور حکومت کو پیچھلی سال کے جنگ میں تاریخی فتح پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ۔

آذربائیجان کے سفیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سے ایک سال پہلے ، جمہوریہ آذربائیجان کی مسلح افواج نے جمہوریہ آرمینیا کی مسلح افواج کی طرف سے ایک اور فوجی اشتعال انگیزی کو روکنے اور اس کو ناکام بنانے کے لیے جوابی اقدامات شروع کیے۔
آذربائیجان کے سفیر کا کہنا تھا کہ اس جنگ کے نتیجے میں آذربایجان نے اپنی علاقائی سالمیت کو یقینی بناتے ہوئے اپنے ان دس لاکھ بے گھر ہونے والے شہریوں کے بنیادی حقوق بحال کیے جن کو ان علاقوں سے بے گھر کردیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس محب وطن جنگ کے ذریعے تیس سالہ آرمینین جارحیت پر مبنی پالیسی کا خاتمہ کیا گیا اور آذربائیجان کے بہادر فوج نے اپنے علاقوں کو آرمینین غیر قانونی تسلط سے آزاد کرایا اور ان کے ناجائز قبضے کو ختم کردیا۔
یہ اقدامات “اپنے دفاع کے حق” کو محفوظ رکھتے ہوئے بین الااقوامی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اٹھائے گئے تاکہ آرمینیا کے طرف سے ایک اور فوجی جارحیت کو روکا جا سکے اور شہری آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ اس دن “44 روزہ” محب وطن جنگ کا آغاز ہوا۔

اس موقع پر آذربائیجان کے سفیر خضر فرہادوف نے پاکستان اور ترکی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے ہمیشہ آذربائیجان کے اصولی موقف کی حمایت کی اور ان کیساتھ کھڑے رہے۔
ترکی کے سفیر مصطفی یرداکل نے کہا کہ آج آذربائیجان کے عوام کے لئے خوشی کا موقع ہے انہوں نے 30 سال تک انتظار کیا کہ عالمی برادری اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کے قراردادوں پر ان کا ساتھ دیکر انصاف فراہم کرینگے لیکن بالآخر مجبور ہوکر خود ان قراردادوں کو عملی کیا۔

ترکی کے سفیر کا کہنا تھا کہ ترکی اور پاکستان نے آذربائیجان کے اصولی موقف کی حمایت کی اور آئندہ بھی ہم تینوں ہر سخت موقع پر ایک دوسرے کیساتھ رہیں گے۔
