ترک وزیر دفاع حلوسی آقار اور امریکی سیکریڑی ڈیفنس لائیڈ آسٹن کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔
وزارت کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق بات چیت کے دوران افغانستان میں جاری آپریشن اور امریکی فوج کے انخلا کے بعد کابل میں حامد کرزئی ائیر پورٹ کی سیکیورٹی کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا بات چیت مثبت انداز میں ہوئی جسے آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
گزشتہ ماہ افغان صورتحال اور امریکہ کے افغانستان سے انخلا کے بعد حامد کرزئی ائیر پورٹ کو آپریشنل رکھنے کے لیے امریکی فوج اور پینٹاگون کے اراکین پر مبنی وفد انقرہ پہنچا تھا ۔
جس کے بعد دونوں ممالک میں صورتحال کا مسلسل جائزہ لینے پر اتفاق ہوا۔
افغانستان میں حالات اس وقت بگڑے جب امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلانے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں امریکی اور ترک صدور کی برسلز میں ہونے والے نیٹو اجلاس کے دوران ملاقات بھی ہوئی۔
ترکی نیٹو کے خصوصی مشن کے تحت گزشتہ 6 سال سے کابل ائیر پورٹ پر فوجی اور لاجسٹک آپریشن کے فرائض انجام دے رہا ہے۔
