ترک پریزیڈینسی آف ڈیفنس کے سربراہ ڈاکٹر اسماعیل دیمر کا کہنا ہے کہ دفاعی صنعت کا سفارت کاری اور دوسری اقوام کے ساتھ تعلقات مضبوط بنانے میں اہم کردار ہے۔یہ بات انھوں نے انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہی۔ان کا کہنا تھا کہ دفاعی صنعت محض ایک تکنیکی شعبہ نہیں، بلکہ دوسرے ملکوں کے ساتھ تعلقات پر اس کا گہرا اثر پڑتا ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر آپ کی دفاعی صنعت مضبوط ہوتو آپ مذاکرات کی میز پر بھی مضبوط ہوتے ہیں۔انھوں نے مزید ککا کہ ترکی اس شعبے میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے،لیکن ترکی دفاعی صنعت سے پیسہ بنانے کی بجائے باہمی فائدے اور تعلقات مضبوط بنانے کی سوچ رکھتا ہے۔انکا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک خاص طور پر افریقن ممالک ترک دفاعی صنعت کے بارے مثبت رائے رکھتے ہیں۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں دو یورپی ممالک نے ترک ڈرونز خریدنے کا کہا ہے، جو ترک دفاعی صنعت کی یورپ میں مقبولیت کی عکاس ہے۔
